پاکستان حلال گوشت کی برآمدات میں اضافے کا خواہاں، وزیراعظم نے نئی پالیسی کی منظوری دے دی
وزیراعظم شہباز شریف نے حلال گوشت کی برآمدات کے لیے نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کا عالمی منڈی میں حصہ نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے دو ہفتوں کے اندر جامع 3 سالہ حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے۔
وفاقی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو عالمی حلال گوشت کی صنعت میں ایک بڑا پلیر بنانے کے لیے وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم نے خصوصی کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ پیداواری صلاحیت میں بہتری، کولڈ اسٹوریج سہولتوں کے فروغ اور مجموعی لاجسٹکس کو مؤثر بنانے پر مبنی قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ عالمی منڈی میں مؤثر مقابلے کے لیے پاکستان کو عالمی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقامی مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے اور درآمدی ممالک کے ساتھ دوطرفہ رجسٹریشن کے عمل کو سہل بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ گوشت کی برآمدات صرف بیماریوں سے پاک علاقوں سے کی جائیں اور انہیں اعلیٰ ترین حفظانِ صحت کے معیار کے تحت برقرار رکھا جائے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں حلال گوشت کی مجموعی پیداوار اس وقت 60 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ حکام کے مطابق ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد پاکستان کے پاس قابلِ ذکر اضافی پیداوار موجود ہے جسے بین الاقوامی معیار کی پیکجنگ اور مسابقتی قیمتوں کی صورت میں برآمدات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مسابقت کے لیے پیداواری لاگت میں کمی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ کاروباری ماڈلز کو اپنانا نہایت اہم ہوگا۔
اجلاس میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے علاوہ دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔


Comments