ملک بھر میں 2025 کی آخری انسداد پولیو مہم شروع ، ساڑھے 4 کروڑ بچوں کو ویکسین کا ہدف
- وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے این ای او سی میں مہم کا افتتاح کیا ، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے
پاکستان نے رواں سال کی پانچویں اور آخری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا، جس کا ہدف پانچ برس سے کم عمر 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانا ہے۔ حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد ملک میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی کو مؤثر طور پر کم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) میں مہم کا افتتاح کیا، جہاں انہوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے، جن میں این ای او سی کوآرڈی نیٹر محمد انور الحق کے بیٹے بھی شامل تھے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ہر بچے کو پولیو کے عالمی اور علاقائی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی اس سات روزہ مہم میں 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔ پاکستان پولیو ایریڈیکیشن پروگرام کے مطابق 1994 سے جاری قومی کوششوں کے نتیجے میں سالانہ کیسز میں 99.6 فیصد کمی آئی ہے ،یعنی 20 ہزار کے قریب کیسوں سے کم ہو کر 2024 میں 74 کیس رہ گئے۔ رواں سال اب تک 30 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ جنوبی خیبر پختونخوا میں سامنے آئے۔
وزیر صحت نے کہا کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں، ہر کیس ایک بچے کے مستقبل، ایک گھر کے دکھ اور ایک پوری برادری کے خطرے کی علامت ہے۔ وائرس جب تک گردش میں ہے، کوئی بچہ محفوظ نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ بار بار ویکسینیشن ہی کیسز کو ہزاروں سے کم سطح پر رکھنے میں مددگار رہی ہے، تاہم ملک بھر میں فضلے کے نمونوں میں وائرس کی موجودگی تشویش ناک ہے۔
انہوں نے والدین، علماء، برادری کے عمائدین، عوامی نمائندوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ پولیو ورکرز کا بھرپور ساتھ دیں اور ہر بچے کو ویکسین ضرور لگوائیں۔


Comments