2035 تک پاکستان میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد سےبڑھ جائیگا، وزیر توانائی
- اس وقت ملک کی 52 فیصد بجلی صاف اور قابلِ تجدید ذرائع جیسے ہائیڈرو، سولر، ونڈ اور دیگر ٹیکنالوجیز سے حاصل کی جا رہی ہے
وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان 2035 تک اپنی صاف توانائی کے مجموعی حصے کو 90 فیصد سے زائد تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ اس وقت ملک کی 52 فیصد بجلی صاف اور قابلِ تجدید ذرائع جیسے ہائیڈرو، سولر، ونڈ اور دیگر ٹیکنالوجیز سے حاصل کی جا رہی ہے۔
ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں وزیر توانائی نے بتایا کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے ’’کلائمٹ رسک انڈیکس‘‘ کے مطابق پاکستان دنیا کے دس سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو ہر سال 4 ارب یورو سے زائد کے نقصانات کا سامنا ہے، جس سے زراعت، انفراسٹرکچر، پانی کے نظام اور مقامی کمیونٹیز بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کے صاف ذرائع کی طرف منتقلی پاکستان کے لیے صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور انسانی ترقی کا معاملہ ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان ’ڈیکاربنائزیشن، ڈیجیٹائزیشن اور ڈِی سنٹرلائزیشن‘ کے اصولوں پر مبنی جامع صاف توانائی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے عوام کی قیادت میں ایک غیر معمولی شمسی انقلاب دیکھا ہے، جسے بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 50 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے جا چکے ہیں اور معاشی مشکلات کے باوجود گھریلو صارفین، کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں نے ریکارڈ رفتار سے چھتوں پر سولر سسٹمز نصب کیے ہیں، جس کی بدولت پاکستان ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رہائشی سولر مارکیٹوں میں شامل ہے۔ اس وقت ملک میں نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ ذرائع سے 17 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ گلگت بلتستان اور گوادر سمیت مختلف علاقوں میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے منصوبے بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ بجلی کے نظام کی ڈیجیٹائزیشن پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ جدید میٹرنگ ڈھانچے، آئی سی ٹی سسٹمز کی بہتری اور اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز کی توسیع سے نہ صرف نقصانات میں کمی آئے گی بلکہ شفافیت اور سروس کی پائیداری بھی بہتر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پاور سیکٹر میں متعدد اہم اصلاحات کی جا رہی ہیں جن میں ڈسکوز کی نجکاری، غیر ضروری بجلی گھروں کی فروخت، صنعتی ٹیرف میں کمی، سرپلس پاور پیکیج کا اجرا، ڈسکوز کے لیے بااختیار بورڈز کی تعیناتی، نیٹ میٹرنگ میں اصلاحات، سرکلر ڈیٹ میں کمی، اسمارٹ میٹرز اور اسکاڈا سسٹمز کی تنصیب، ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ موبائل ایپ کا آغاز، 118 ہیلپ لائن کا قیام، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کا قیام، این ٹی ڈی سی کی تنظیمِ نو، بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن، گوادر و گلگت میں توانائی رسائی کے خصوصی منصوبے، ریگولیٹری فیصلوں کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام، مسابقتی ہول سیل انرجی مارکیٹ کے نفاذ، ای وی چارجنگ ٹیرف میں کمی، اور تعمیراتی شعبے میں انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ کی عملداری شامل ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات نہ صرف پاکستان کے توانائی ڈھانچے کو جدید اور مستحکم بنانے میں مدد دیں گے بلکہ مستقبل کی موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ملک کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments