قومی سطح پر کرپشن کے اعداد و شمار کو صرف عدالتی سزاؤں کی بنیاد پر جانچنا کسی بھی ملک میں بدعنوانی کی حقیقی حد کا درست اندازہ فراہم نہیں کرتا، کیونکہ ثبوت اکٹھے کرنے میں بڑے چیلنجز درپیش ہوتے ہیں اور قانونی عمل طویل ہوتا ہے۔ اسی لیے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے تاثر پر مبنی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) تیار کیا، جو مختلف سرکاری اداروں کی سرگرمیوں کے بارے میں ماہرین اور کاروباری رہنماؤں کے جائزوں پر انحصار کرتا ہے—جیسے رشوت ستانی، سرکاری وسائل کا غلط استعمال، ذاتی مفاد کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال، اقربا پروری، اور اشرافیہ کا اثر و رسوخ۔
تاہم سی پی آئی پر تین اہم تنقیدیں بھی کی جاتی ہیں: (الف) کرپشن جیسا پیچیدہ تصور ایک واحد اسکور میں سمونا مشکل ہے، (ب) یہ بدعنوانی کے حقیقی واقعات کے بجائے صرف تاثر کو ناپتا ہے، اور (ج) یہ صرف سرکاری شعبے کی کرپشن کو ماپتا ہے جبکہ نجی شعبہ، جو اکثر برابر کا حصہ دار ہوتا ہے، اس میں شامل نہیں۔
سی پی آئی کی تیاری کے لیے بارہ مختلف ادارہ جاتی سروے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں افریکن ڈیولپمنٹ بینک، برٹلسمن فاؤنڈیشن، اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ، فریڈم ہاؤس، گلوبل انسائٹ، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، پولیٹیکل اینڈ اکنامک رسک کنسلٹنسی، پی آر ایس گروپ، ورلڈ بینک، ورلڈ اکنامک فورم اور ورلڈ جسٹس پروگرام شامل ہیں۔ اور اس تناظر میں یہ امر اہم ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی 20 نومبر 2025 کو جاری کردہ رپورٹ بعنوان ”پاکستان: کرپشن اینڈ گورننس ڈائیگناسٹک رپورٹ“ (سی جی ڈی) ورلڈ بینک کی شمولیت کے ساتھ تیار کی گئی تھی۔
یہ رپورٹ جاری کرنا جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایک اسٹرکچرل بینچ مارک تھا اور اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ “پاکستان کے جاری اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے مطابق ہے، جسے سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کی معاونت حاصل ہے، جو مالیاتی پائیداری، ساختی اصلاحات اور ادارہ جاتی جدیدیت پر زور دیتا ہے۔” تاہم اس کے نتائج کسی انکشاف کے مترادف نہیں، کیونکہ یہ ان نکات سے مطابقت رکھتے ہیں جنہیں اس سے قبل کثیرالجہتی اداروں اور گھریلو ذرائع (بشمول نجی و سرکاری میڈیا) کی رپورٹس میں بیان کیا جاتا رہا ہے—یہی نکات رپورٹ میں یوں سمیٹے گئے ہیں: “ایک بھاری ریاستی غلبے والی معیشت، پیچیدہ ریگولیٹری ڈھانچوں، کمزور ادارہ جاتی صلاحیتوں، بکھری ہوئی نگرانی، غیر مؤثر اور غیر مستقل احتساب، اور قانون کی کمزور عملداری کے باعث مستقل اور وسیع پیمانے پر کرپشن کے خطرات میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر نجی شعبے کی ترقی اور سرکاری شعبے کی کارکردگی کو محدود کرتے ہیں۔” اس رپورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے دو ایسے بڑے موضوعات پر توجہ دی ہے جنہیں ماضی میں وہ اہمیت نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھے، اور ایک اہم پہلو کو نہ چھیڑا۔
رپورٹ کی ایک توجہ پاکستان کے رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) نظام پر ہے۔ “اس کا قانونی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن عملی نفاذ اب تک اپنے مطلوبہ شفافیت کے نتائج فراہم نہیں کر سکا…. عملی طور پر،” انفارمیشن کمیشن کے مطابق، آر ٹی آئی درخواستوں کا ایک بڑا حصہ یا تو بروقت نمٹایا نہیں جاتا یا استثنا کی بنیاد پر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ 2022 تا 2024 کے دوران، انفارمیشن کمیشن میں دائر اپیلوں کی اکثریت انہی تین برسوں میں کی جانے والی آر ٹی آئی درخواستوں سے متعلق تھی جن میں: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (21 زیرِ التوا، 68 نمٹائی گئیں)، نادرا (20 زیرِ التوا، 66 نمٹائی گئیں)، وزارتِ داخلہ (26 زیرِ التوا، 40 نمٹائی گئیں)، قومی احتساب بیورو (16 زیرِ التوا، 43 نمٹائی گئیں), وزارتِ اطلاعات و نشریات (21 زیرِ التوا، 38 نمٹائی گئیں)، ایف آئی اے (15 زیرِ التوا، 43 نمٹائی گئیں), فیڈرل بورڈ آف ریونیو (23 زیرِ التوا، 31 نمٹائی گئیں), اور قومی اسمبلی (16 زیرِ التوا، 30 نمٹائی گئیں) شامل ہیں۔
رپورٹ ایک مضبوط وہسل بلوور (گمنام مخبر) تحفظ نظام کی سفارش کرتی ہے، جو اس وقت صرف خیبر پختونخوا میں موجود ہے جہاں 2016 میں قانون بنایا گیا تھا، اور یہ بھی نوٹ کرتی ہے کہ رواں سال قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا ہے۔ البتہ رپورٹ ایک اہم اور جائز خدشے کا اظہار کرتی ہے کہ “طاقتور سرپرستی کے نیٹ ورکس کے باعث عوامی عہدیدار یا وہ افراد جو کرپشن کے معاملات کے گواہ یا اس سے واقف ہوں، رپورٹ کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں ہراسانی، انتقام یا دیگر ردعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس اہم قانونی فریم ورک کی منظوری اور عمل درآمد ہسل بلوور کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جانا چاہیے۔”
رپورٹ میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کا بھی ذکر ہے، جو مسلسل آئی ایم ایف کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی کو “غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کافی اختیارات حاصل ہیں، مگر اس کی شفافیت اور احتساب کے تقاضے ابھی تک آزمائے نہیں گئے۔”
تاہم یہ اصرار قبل از وقت محسوس ہوتا ہے، کیونکہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اکتوبر 2025 اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لُک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری منفی 64.5 ملین ڈالر رہی، جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کے بہاؤ میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 34.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ مزید یہ بھی بتاتی ہے کہ “اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز (ایس او ای ) قانون کا مقصد حکمرانی اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانا تھا، مگر اس کے مؤثر نفاذ کے لیے کلیدی اصلاحات تاحال زیرِ التوا ہیں۔ مزید برآں، اگرچہ اس قانون کا مقصد ایس او ایز کے لیے ایک معیاری اور اصولی فریم ورک قائم کرنا تھا، لیکن ایک خود مختار ویلتھ فنڈ کے قیام سے، جسے ابتدائی طور پر خصوصی حقوق دیے گئے تھے، اس مقصد کو نقصان پہنچا—البتہ حکومت نے اب اس ادارے پر بھی وہی اصول لاگو کرنے کا عندیہ دیا ہے۔”
رپورٹ کی دوسری بڑی توجہ عدالتی اصلاحات پر ہے۔ یہ رپورٹ متنازعہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل کی ہے (اگرچہ 26ویں ترمیم، جس نے اس کا فریم ورک وضع کیا، اس سے پہلے کی نہیں)۔ اس کے باوجود، رپورٹ کی تجاویز نہایت قابلِ توجہ ہیں، جن میں شامل ہیں:
(الف) عدالتی تقرریوں اور مدتِ ملازمت کے لیے معیاری اصول وضع کرنا، خصوصاً انتظامی ٹربیونلز اور خصوصی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے، اور تجارتی معاملات دیکھنے والی عدالتوں میں ان اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا؛
(ب) وفاقی انتظامی ٹربیونلز اور خصوصی عدالتوں کی کارکردگی بہتر بنانا؛
(ج) عدالتی عملے کے لیے دیانت داری اور تضادِ مفاد سے متعلق قواعد کو مضبوط بنانا، اور انہیں ملنے والی ادائیگیوں اور مراعات میں شفافیت بڑھانا؛
(د) دیانت داری میں بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی سالانہ عوامی رپورٹ شائع کرنا، جس میں موصول ہونے والی شکایات کی تعداد اور ان پر کارروائی کے اعداد و شمار شامل ہوں؛
د) عدالتی شفافیت اور امانت داری میں اضافہ؛
(ھ) متبادل نظامِ حلِ تنازعات (اے ڈی آر) کو وسعت دینا اور اسے ادارہ جاتی شکل دینا، اسی سلسلے میں ملک بھر میں اے ڈی آر مراکز کو فعال بنانا اور آربیٹریشن بل منظور کرنا؛ اور
(ل) ایک کثیر سالہ عدالتی اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کرنا تاکہ ادارہ جاتی کارکردگی اور عدالتی خدمات کی فراہمی کو مضبوط کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کی تشویش کے یہ دونوں شعبے قابلِ عمل ہیں؛ تاہم یہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈونرز کی معاونت سے بننے والے قوانین پر پاکستان میں عمل درآمد ہمیشہ سے کمزور رہا ہے۔ مزید یہ کہ وہ ادارے جنہوں نے معلومات کی فراہمی سے متعلق درخواستیں مسترد کیں، ان سے یہ توقع کم ہی ہے کہ وہ اپنے فیصلے بدل دیں گے، اور وہی اسمبلی جس نے 27ویں ترمیم منظور کی، اس سے بھی یہ امید غیر حقیقی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر حقیقی جذبے کے ساتھ عمل کرے گی۔
تاہم جو پہلو رپورٹ میں اجاگر نہیں ہو سکا، وہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی یہ اہم دلیل ہے کہ “کرپشن انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنج — موسمیاتی تبدیلی، کے ساتھ انتہائی گہرائی سے جڑی ہوئی ہے… دنیا بھر میں بے شمار لوگ شدید موسمیاتی اثرات کا شکار ہیں کیونکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے مختص فنڈز چوری یا غلط استعمال ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران، غیر ضروری اثر و رسوخ کی شکل میں کرپشن وہ پالیسیوں کو بھی روک دیتی ہے جو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں، اور اس سے ماحولیاتی نقصان پیدا ہوتا ہے۔” اس ممکنہ کمی کی وجہ شاید آئی ایم ایف کے جاری ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ کا تناظر ہو؛ تاہم سی جی ڈی میں اس کا ذکر ہونا خوش آئند ہوتا، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات انتہائی تواتر اور شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔
>خلاصہ یہ کہ ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ اگر پاکستان موجودہ ای ایف ایف کے تحت اصلاحات پر عمل کر لے تو آئندہ پانچ سال میں 5 سے 6.5 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی جا سکتی ہے،لیکن یہ تخمینہ غیرحقیقی ہے، کیونکہ سخت سکڑی ہوئی مالی اور زری پالیسیاں ، جو ای ایف ایف کا بنیادی حصہ ہیں، معاشی نمو کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.