سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیاں ، 7 دہشتگرد مارے گئے ، آئی ایس پی آر
- وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا
18 اور 19 نومبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ہونے والی تین مختلف کارروائیوں کے دوران انڈین پراکسی فتنہ الخوارج گروہ کے 7 دہشتگرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں مختلف اضلاع میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئیں، مہمند میں سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشتگردوں کو مارا جب کہ لکی مروت میں کیے گئے دوسرے انٹیلی جنس آپریشن میں دو دہشتگرد مارے گئے، جبکہ تیسرے مقابلے میں جو ٹانک میں ہوا،جہاں ایک دہشتگرد ہلاک ہوگیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقوں میں بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگردوں کے باقی عناصر کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
ادارے نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت شروع کی گئی پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف مہم، عزمِ استحکام، پوری رفتار کے ساتھ جاری رہے گی ،تا کہ بیرونی مدد یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مہمند، لکی مروت اور ٹانک میں خوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے سات دہشتگردوں کے خاتمے پر فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس لعنت کا مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ خود بھی ملکی دفاع کے اس عزم میں برابر شریک ہیں۔
ایک روز قبل بھی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ کرم میں دو الگ کارروائیوں میں انڈین پراکسی فتنہ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے۔


Comments
Comments are closed.