کینیڈین فٹبال کے اصول منفرد ، مداح امریکی قوانین کے نفاذ سے ناخوش
کینیڈین فٹ بال لیگ (سی ایف ایل) مداحوں کی ناراضگی کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ آنے والے نئے قوانین روایتی حامیوں کے مطابق کینیڈین فٹ بال کی منفرد خصوصیات کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں، جو امریکی کھیل سے مختلف ہیں۔
یہ تبدیلیاں 2026 اور 2027 کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں میدان کی لمبائی کم کرنا، گول پوسٹ کو اینڈ زون کے عقب میں منتقل کرنا اور دیگر عناصر میں تبدیلی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں سال کینیڈا کو 51 ویں ریاست کہنے کے بعد کینیڈین وطن پرستی میں اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں ہونے والے وفاقی انتخابات میں وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے لیے ہاکی تھیم والی اصطلاح “elbows up” استعمال کر کے اپنے لبرل پارٹی کی حیران کن دوبارہ انتخابی کامیابی حاصل کی۔
مداح اس بات پر بھی سخت ردعمل ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کے کھیل کو امریکی فٹ بال کی طرح بنایا جا رہا ہے۔ کینیڈین فٹ بال اپنے منفرد اصولوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے،جس میں میدان لمبا اور چوڑا، گول پوسٹ فرنٹ میں، اینڈ زون گہرا، 12 کھلاڑی فی ٹیم اور صرف تین ڈاؤنز میں 10 یارڈ کی حد حاصل کرناشامل ہیں۔
سی ایف ایل کمشنر اسٹورٹ جانسٹن نے مداحوں کی شکایات تسلیم کی ہیں لیکن کہا کہ مجموعی ردعمل مثبت رہا۔ جانسٹن نے زور دیا کہ لیگ کینیڈین کھیل کے اصولوں پر قائم ہے جس میں تین ڈاؤنز، 12 کھلاڑی، 65 یارڈ چوڑا میدان اور بڑے اینڈ زون شامل ہیں۔
اینکرس ریڈ کے سروے کے مطابق باقاعدہ مداحوں کا نصف اور سخت مداحوں کے تین چوتھائی افراد نئے قوانین سے ناخوش ہیں۔ سروے کے مطابق لیگ کو نئے مداحوں کو متوجہ کرنے کی کوشش میں موجودہ حامیوں کو ناراض نہ کرنا ہوگا، جو ایک خطرناک چیلنج ہے۔


Comments
Comments are closed.