تیزی سے ختم ہوتے تیل و گیس کے ذخائر کے پس منظر میں یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان نے تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد تیل و گیس کی تلاش کی مہم کامیابی سے دوبارہ شروع کر دی ہے۔ حال ہی میں شروع کی گئی “آف شور بِڈ راؤنڈ 2025” نے ملکی اور غیر ملکی دونوں کمپنیوں کی گہری دلچسپی حاصل کی ہے، جو توانائی کے شعبے میں نئے اعتماد کی علامت ہے۔
اکتوبر 2025 میں حکومت نے 40 میں سے 23 سمندری تلاشاتی بلاکس چار ملکی کنسورشیا کو الاٹ کیے، جن کی قیادت پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل )، ماری انرجیز لمیٹڈ اور پرائم انٹرنیشنل آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ (پی آئی او جی سی ایل) ، جو حبکو کی ذیلی کمپنی ہے،کر رہی ہیں۔
یہ الاٹمنٹس، جو کل 40 بلاکس میں سے دی گئیں، تقریباً 53,500 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر محیط ہیں، جن میں انڈس اور مکران بیسن شامل ہیں۔ کنسورشیا نے ابتدائی تین سال کے دوران 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے، جس میں ارضیاتی و جغرافیائی سروے، سیسمک ڈیٹا کا حصول اور اس کی تشریح شامل ہے تاکہ ممکنہ ڈرلنگ مقامات کی نشاندہی کی جا سکے۔ اگلا مرحلہ، جس میں تلاشاتی ڈرلنگ، یعنی تیل و گیس کی موجودگی کا پتا لگانے کے لیے کی جانے والی کھدائی، جس سے ممکنہ ذخائر کی تجارتی افادیت کا تعین کیا جائے گا، شامل ہے، ان ذخائر کی تجارتی افادیت کا تعین کرے گا جو ممکنہ طور پر دریافت ہوں گے۔ باقی 17 بلاکس آئندہ بِڈ راؤنڈز میں دوبارہ پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
اس مرحلے کی ایک نمایاں پیش رفت ترکی کی قومی تیل و گیس کمپنی “ترکش پیٹرولیم” (ٹی پی اے او ) کا انڈس آف شور بلاک-سی میں 25 فیصد حصہ اور آپریٹرشپ حاصل کرنا ہے، جو اس کی ذیلی کمپنی ترکش پیٹرولیم اوور سیز کمپنی (ٹی پی او سی ) کے ذریعے عمل میں آیا۔
یہ اقدام ترکی کی توانائی سرگرمیوں کو اس کی مقامی اور بحیرۂ روم کی حدود سے آگے وسعت دیتا ہے، اور پاکستان کے تلاشاتی منظرنامے میں ایک نئی شراکت داری کو جنم دیتا ہے۔ ایک اور بڑی شریک کمپنی ہانگ کانگ کی یونائیٹڈ انرجی گروپ ( یو ای جی ) ہے، جو پہلے ہی پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کار ہے اور یہاں یونائیٹڈ انرجی پاکستان ( یو ای پی ) کے نام سے کام کر رہی ہے۔
پاکستان کا سمندری علاقہ دو بڑے بیسنوں، انڈس بیسن اور مکران بیسن، پر مشتمل ہے۔ تاریخی طور پر یہاں تلاشاتی سرگرمیاں محدود رہی ہیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک صرف 18 سمندری کنویں کھودے گئے، 15 انڈس بیسن میں اور 3 مکران بیسن میں، مگر کسی سے بھی تجارتی پیمانے پر تیل یا گیس نہیں ملی۔
آف شور تلاش کا آغاز 1961 میں ہوا جب امریکی کمپنی سن آئل (اب ایس یو این او سی او ) نے سیسمک سروے کیے اور 1963–64 میں تین قریبِ ساحل کنویں کھودے۔ بعد ازاں جرمنی کی وِنٹرشال ڈیا نے 1972 تا 1975 کے دوران تین کنویں کھودے، اور امریکی کمپنی ہسکی انرجی نے 1978 میں ایک کنواں کھودا۔ فرانسیسی کمپنی ٹوٹل (اب ٹوٹل انرجیز) نے 2004 میں الٹرا-ڈیپ واٹر میں کھوج کی، جب کہ ڈچ کمپنی شیل نے 2007 میں ڈرلنگ کی۔ اگرچہ یہ کوششیں کامیاب دریافتوں پر منتج نہ ہوئیں، مگر ان سے قیمتی ارضیاتی معلومات حاصل ہوئیں۔
مکران بیسن میں امریکی کمپنی میراتھن آئل کارپوریشن نے 1976–77 میں ایک کنواں کھودا، جب کہ اوشن انرجی کمپنی (امریکا) نے 2000–01 میں ایک اور کنواں کھودا، مگر دونوں بے نتیجہ رہے۔ سب سے نمایاں حالیہ کوشش 2019 میں ہوئی جب ایکسون موبل (امریکا) نے اینی (اٹلی) اور پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ککرا-1 کنواں کھودا، مگر یہ منصوبہ بھی ناکام رہا اور ایکسون موبل نے بعد ازاں پاکستان سے اپنا انخلا کر لیا۔
جون 2023 میں حکومت نے 12 آف شور بلاکس پیش کیے، جن میں چھ اتھلے پانیوں میں، دو گہرے پانیوں میں، اور چار انتہائی گہرے زونز میں تھے، مگر کسی کمپنی نے دلچسپی نہیں لی۔ تاہم، امریکی کنسلٹنسی ڈی گولئیر اینڈ میکناٹن (ڈی اینڈ ایم ) کے ایک بیسن اسسمنٹ مطالعے کے بعد ایک بار پھر امید پیدا ہوئی، جس نے پاکستان کے آف شور بیسنز، خصوصاً انڈس اور مکران خطوں میں نمایاں غیر دریافت شدہ ہائیڈروکاربن صلاحیت کی تصدیق کی۔ پاکستان کا آف شور زون تقریباً 3 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جو توانائی سے مالامال ممالک، عُمان، متحدہ عرب امارات، اور ایران، کے قریب واقع ہے۔ ستمبر 2024 میں رپورٹس آئیں کہ پاکستان نے اپنے آف شور علاقے میں ممکنہ تیل و گیس کے ایسے ذخائر کی نشاندہی کی ہے جو حجم کے لحاظ سے دنیا کے چوتھے بڑے ذخائر میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان کی تجارتی حیثیت ابھی ثابت نہیں ہوئی، لیکن اس انکشاف کے بعد حکومت نے آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کے اعلان کے ذریعے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا فیصلہ کیا۔
یو ایس ایڈ کے 2015 کے ایک مطالعے کے مطابق انڈس بیسن میں تقریباً 14 ارب بیرل تکنیکی طور پر قابلِ حصول خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن ( ای آئی اے) کے 2015 اور امریکی جیولوجیکل سروے ( یو ایس جی ایس) کے 2017 کے علیحدہ تخمینوں میں یہ مقدار 10 ارب بیرل سے کم بتائی گئی۔
30 جون 2025 تک پاکستان اپنے 1,245 ملین بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا تقریباً 81 فیصد استعمال کر چکا تھا، جبکہ 353 ملین بیرل باقی رہ گئے، یہ اضافہ حالیہ دریافتوں اور موجودہ فیلڈز کے تخمینوں کی درستی کے بعد ممکن ہوا۔ موجودہ پیداوار اور کھپت کی شرح کے مطابق، یہ ذخائر 15 برسوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔
پاکستان روزانہ 60 سے 75 ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جب کہ ملکی طلب تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جس کے نتیجے میں سالانہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے تیل درآمد کیے جاتے ہیں۔
قدرتی گیس کے معاملے میں، پاکستان کے باقی ماندہ ثابت شدہ ذخائر کا تخمینہ 19 ٹریلین مکعب فٹ ( ٹی سی ایف ) لگایا گیا ہے، جن میں سے تقریباً 70 فیصد پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے۔ ملک کے کل قابلِ حصول گیس وسائل ابتدائی طور پر 63.24 ٹریلین مکعب فٹ تھے، جن میں سے 43.73 ٹریلین مکعب فٹ پیدا کی جا چکی ہے۔
پرانے فیلڈز سے پیداوار میں کمی اور نئی بڑی دریافتوں کے فقدان کے باعث گیس کی پیداوار مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ موجودہ شرحِ کھپت کے مطابق، یہ ذخائر مزید 15 برس تک باقی رہ سکتے ہیں۔ پاکستان گھریلو طلب پوری کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 8.7 ارب مکعب میٹر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرتا ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کا زمینی تیل و گیس تلاش و پیداوار ( ای اینڈ پی) شعبہ بھی شدید مشکلات کا شکار رہا، کیونکہ متعدد بین الاقوامی کمپنیاں، جن میں کویتی کمپنی کے یو ایف پی ای سی، اینی (اٹلی)، شیل، ٹوٹل انرجیز، اور بیکر ہیوز شامل ہیں، یا تو ملک سے نکل گئیں یا اپنی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کر دیں۔
معاشی عدم استحکام، کرنسی کی گراوٹ، بھاری ٹیکسوں، ریگولیٹری رکاوٹوں اور گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں نے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی، جس کے نتیجے میں ڈرلنگ کی سرگرمیاں اور نئی دریافتیں نمایاں طور پر کم ہو گئیں۔
ان چیلنجز کے پیشِ نظر، پاکستان کے آف شور شعبے میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ظاہر کردہ نیا اعتماد خوش آئند ترقی ہے۔ کامیاب دریافتیں طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کر سکتی ہیں، تلاش و پیداوار ( ای اینڈ پی) کی صنعت کو مضبوط بنا سکتی ہیں، اور مہنگی درآمدات پر انحصار کم کر کے پاکستان کو توانائی میں خود کفالت کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
صحیح سرمایہ کاری کے ماحول، پالیسی کے استحکام اور تکنیکی تعاون کے ساتھ، انڈس بیسن بالآخر ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر خطے میں توانائی کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.