استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم
- پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے شواہد ثالث ممالک قطر اور ترکی کے حوالے کر دیے
آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ استنبول میں قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہو گئے کیونکہ اسلام آباد نے افغان سرزمین سے سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے جمعہ کے روز ثالثی کرنے والے ممالک کو افغانستان سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد پیش کیے۔ اسلام آباد کے وفد، جس میں سینیئر عسکری حکام شامل تھے، نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی روک تھام پاکستان کا سب سے اہم مطالبہ ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ترکی اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے تاہم یہ افغانستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان انتظامیہ دوحہ امن معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پاکستان کو افغان عوام سے خیرسگالی کے جذبات ہیں اور وہ ان کے پُرامن مستقبل کا خواہاں ہے، لیکن طالبان حکومت کے ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا ہمسایہ ممالک کے مفادات کے منافی ہو۔” ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے استنبول مذاکرات کے دوران ثالثوں کے ساتھ ناقابلِ تردید شواہد اور مخصوص مطالبات شیئر کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی،” اور زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ “پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی نرمی یا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔”
انہوں نے آبی حقوق کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ “پانی پاکستان کے لیے بقا کا مسئلہ ہے اور ملک اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”
افغان وفد میں انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ حاجی نجیب، سینئر طالبان رہنما انس حقانی اور دوحہ میں مقیم افغان نمائندہ سہیل شاہین شامل تھے۔
مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے سرحد پار جنگجوؤں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اور مؤثر طریقہ کار کے قیام پر تبادلۂ خیال کیا۔
دریں اثناء اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے دوران ہی افغان فورسز نے چمن سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس پر پاکستانی سیکورٹی فورسز نے موثر اور ذمہ دارانہ جواب دیتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔


Comments
Comments are closed.