BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.42%)
KSE100 Decreased By (-0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.13 (0.53%)
BOP 29.95 Decreased By ▼ -0.17 (-0.56%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.43 Increased By ▲ 0.94 (5.37%)
DGKC 187.91 Increased By ▲ 0.69 (0.37%)
FABL 93.30 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
FCCL 51.65 No Change ▼ 0.00 (0%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.26%)
HUBC 199.50 Increased By ▲ 0.54 (0.27%)
HUMNL 9.73 Decreased By ▼ -0.12 (-1.22%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.28 Increased By ▲ 0.11 (0.42%)
MLCF 91.17 Decreased By ▼ -0.06 (-0.07%)
OGDC 314.60 Increased By ▲ 1.21 (0.39%)
PAEL 34.99 Decreased By ▼ -0.25 (-0.71%)
PIBTL 14.28 Decreased By ▼ -0.43 (-2.92%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 220.45 Decreased By ▼ -0.91 (-0.41%)
PRL 89.71 Decreased By ▼ -1.51 (-1.66%)
SNGP 91.00 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.42 Decreased By ▼ -0.19 (-2.5%)
TPLP 12.12 Decreased By ▼ -0.44 (-3.5%)
TRG 54.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.04%)
UNITY 7.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

میزبان ملک کی درخواست پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے تاکہ امن کو ایک اور موقع دیا جاسکے۔ واضح رہے کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات بغیر کسی ختم ہوگئے تھے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان نے استنبول میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے میزبان ممالک کی درخواست پر مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد جو وطن واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا اب استنبول میں قیام میں اضافہ کرے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ امن کو ایک اور موقع دینے اور خطے میں اعتماد کا ماحول بحال کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بات چیت کا مرکزی موضوع پاکستان کا یہ مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف واضح، قابل تصدیق اور مؤثر اقدامات کرے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے بدھ کو کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ افغان فریق بنیادی مسئلے سے ہٹتا رہا اور اہم نکتے سے گریز کرتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ افغان وفد نے الزام تراشی، تاخیری حربے اور بہانے استعمال کیے جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے ٹھوس شواہد پیش کیے جسے افغان طالبان اور میزبان ممالک نے تسلیم کیا۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کے مقصد کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے افغان طالبان حکومت مسلسل پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے، پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

انہوں نے طالبان حکومت پر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی بار بار خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تنقید بھی کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ طالبان حکومت نہ تو اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہے اور نہ ہی امن میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ جنگی معیشت پر پلتی ہے اور افغانستان کے عوام کو ایک اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پاکستان میں کوئی دہشت گردانہ حملہ یا خود کش بمباری ہوتی ہے تو اس کے نتائج افغانستان کو بھگتنا پڑیں گے۔

آج نیوز نے ذرائع کے حوالہ سے کہا کہ مذاکرات کے دوران افغان وفد نے متعدد بار اپنی پوزیشن تبدیل کی جس سے مذاکراتی عمل مزید سست ہوا۔ افغان حکومت نے مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے ابھی تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے کہا کہ وہ دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں، سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف تمام ممکنہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

Comments

Comments are closed.