حالیہ برسوں میں ملازمتوں کے مستقبل کے بارے میں بحث ، خاص طور پر جب سے 2022 میں چیٹ جی پی ٹی لانچ کیا گیا، جنریٹو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مرکوز رہی ہے اور یہ کہ کس طرح یہ وائٹ کالر ملازمتوں کے لیے خطرات اور مواقع دونوں پیدا کرتی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی جابس آف ٹومارو رپورٹ جو 15 اکتوبر کو جاری ہوئی میں کہا گیا ہے کہ عالمی ملازمتوں کی مارکیٹ میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ محض دفتری کام تک محدود نہیں ہیں، اور اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں صرف مصنوعی ذہانت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک وسیع تر ٹیکنالوجیز کے مجموعے کی بدولت آگے بڑھ رہی ہیں۔
چار تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجیز مصنوعی ذہانت (اے آئی)، روبوٹکس، جدید توانائی کے نظام، اور سینسر نیٹ ورکس دنیا کی لیبر مارکیٹ کے 80 فیصد افراد کو روزگار فراہم کرنے والے 7 کلیدی شعبوں میں ملازمتوں کے ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے لیے تیار ہیں، جن میں زراعت، مینوفیکچرنگ، تعمیرات، ہول سیل اور ریٹیل تجارت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، کاروبار و مینجمنٹ، اور صحت کی دیکھ بھال شامل ہیں۔
یہ بات کافی عرصے سے واضح ہے کہ آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی کی جدت ہی لیبر مارکیٹ کو نئے سرے سے تشکیل دینے والی سب سے طاقتور قوت ہوگی جو بہتر تنخواہ والی، اعلیٰ معیار کی ملازمتیں پیدا کرے گی اور عالمی پیداواری صلاحیت میں تیزی لائے گی۔
تاہم اگر سوچ سمجھ کر حکمرانی نہ کی جائے تو یہی قوتیں قوموں کے درمیان اور اندر عدم مساوات کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں، لہٰذا پالیسی سازوں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ تکنیکی تبدیلی کو اس طرح اپنائیں کہ اس کے فوائد بڑے پیمانے پر مشترکہ ہوں اور جو نئی معیشت یہ بنائے وہ اختلافات کے بجائے شمولیت (ہر ایک کی شرکت) پر مبنی ہو۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صارفین پر مبنی جنریٹو ماڈلز کے تیزی سے عروج کے بعد سے اے آئی کس طرح حقیقی معنوں میں ہر جگہ موجود ہوگئی ہے اور 86 فیصد آجر توقع کرتے ہیں کہ یہ 2030 تک ان کی تنظیموں کو یکسر بدل دے گی۔
اسی دوران روبوٹکس بھی مسلسل پھیل رہا ہے جو 2020 سے ہر سال 5 سے 7 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے اور کاروباری لاگت کو 40 فیصد تک کم کر رہا ہے جس کی زیادہ تر پیش رفت امریکہ، چین اور جنوبی کوریا جیسی ترقی یافتہ معیشتوں میں مرکوز ہے۔
اسی طرح توانائی ٹیکنالوجیز بھی صنعتوں کو نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے اور 41 فیصد آجر توقع کرتے ہیں کہ یہ ان کے آپریشنز میں بڑی تبدیلیاں لائیں گی۔
اسی طرح سینسر نیٹ ورکس جو مواصلاتی اور سینسنگ نظام کو یکجا کرتے ہیں، ٹیکنالوجی کے باہمی انحصار کو گہرا کر رہے ہیں، حالانکہ غیر یکساں رسائی ابھی بھی ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
مثال کے طور پر یورپ وسیع انٹرنیٹ رابطے سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ افریقہ کا زیادہ تر حصہ اب بھی پیچھے ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجیز پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بہت زیادہ امیدیں رکھتی ہیں، لیکن یہ پرائیویسی کی خلاف ورزیوں، نظام کی خرابیوں اور معاشی قدر کے بگڑے ہوئے ڈھانچے سے متعلق سنگین خطرات بھی پیدا کرتی ہیں، جو ریگولیٹرز کے لیے ضروری بناتا ہے کہ وہ مضبوط حفاظتی اقدامات قائم کریں، بجائے اس کے کہ ان طاقتور قوتوں کو مکمل طور پر بے لگام آگے بڑھنے کی اجازت دیں۔
ان ٹیکنالوجیز کی صلاحیت کو سمجھنے اور ان کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی: سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تیز کرنا اور سب کے لیے شمولیت پر مبنی رسائی کو یقینی بنانا۔
اسی طرح تعلیمی نظام کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنا بھی نہایت اہم ہوگا تاکہ ان ابھرتی ہوئی فیلڈز میں علم اور مہارت صرف چند مراعات یافتہ افراد تک محدود نہ رہیں بلکہ وسیع پیمانے پر بانٹی جائیں، خاص طور پر پاکستان جیسے کم آمدنی والے ممالک میں۔
زراعت کا شعبہ ایک واضح مثال پیش کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے عالمی زرعی افرادی قوت کی بنیادی تشکیل نو متوقع ہے۔ پاکستان کے لیے، جہاں زراعت معیشت کا بنیادی ستون ہے، یہ پیداوار میں اضافے اور پائیدار ترقی کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔
تاہم، اس امکانات کو حقیقی شکل دینے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم میں مکمل اصلاحات، تحقیق، جدت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
پاکستان کے پاس عالمی معیشت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اب تکنیکی جدت کو اپنانے کے لیے بہت کم وقت ہے، نہ صرف زراعت بلکہ مینوفیکچرنگ، تجارت اور دیگر کلیدی شعبوں میں بھی۔
جہاں جنوبی امریکہ میں زرعی ڈرون کی مدد سے کیلے کی فصلیں منتقل کی جا رہی ہیں اور چین اور تائیوان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی کوالٹی کنٹرول مینوفیکچرنگ کے معیار کو نئی شکل دے رہا ہے، وہیں یہ جدتیں پاکستان میں ابھی دور کی بات ہیں۔
اس لیے تمام ممالک کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے محض ناظر نہ رہیں بلکہ اسے فعال طور پر تشکیل دینے والے بنیں، جس کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیتیں بڑھانا، علم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور حکومتوں، ملازمین اور ٹیکنالوجی ڈویلپرز کے درمیان ہم آہنگ اقدامات کو فروغ دینا ضروری ہے۔ آخر میں، جدت کے عمل میں پیش رفت موجودہ تقسیم کو مزید نہ وسیع کرے، یہ سب کا نصب العین ہونا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.