پاکستان کی آئرن اور اسٹیل اسکریپ کی درآمدات دسمبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جو تعمیراتی اور اسٹیل صنعتوں میں نئی سرگرمی اور بڑھتی رفتار کی عکاسی کرتی ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2025 میں اسکریپ کی درآمدات 3 لاکھ 59 ہزار 759 ٹن رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد اور اگست 2025 کے مقابلے میں 36 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ خام مال کی یہ مضبوط طلب چار سال کی بلند ترین سطح ہے، کیونکہ اسٹیل مینوفیکچررز بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمیوں کے پیشِ نظر خام مال کی خریداری میں تیزی لا رہے ہیں۔
رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی اسکریپ درآمدات 9 لاکھ 35 ہزار 981 ٹن ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہیں، جس سے صنعتی سرگرمی میں بتدریج بہتری کا اشارہ ملتا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق، یہ درآمدی رجحان لانگ اسٹیل سیکٹر کے لیے حوصلہ افزا ہے کیونکہ اسٹیل اسکریپ بلیٹس، سریے (ریبارز) اور گرڈرز کی تیاری کا بنیادی خام مال ہے۔
مالی اعتبار سے ستمبر 2025 میں اسکریپ کی درآمدات کا حجم 178 ملین ڈالر رہا جو سالانہ بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے تاہم فی ٹن اوسط درآمدی قیمت میں 15 فیصد کمی کے باعث قیمتوں میں اضافے کا اثر محدود رہا جو کم ہو کر 494 ڈالر فی ٹن تک آگئی۔
سہ ماہی کے دوران مجموعی درآمدی مالیت 486 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 2 فیصد کم ہے، کیونکہ فی ٹن اوسط قیمت 12 فیصد کمی کے بعد 524 ڈالر رہ گئی۔
واضح رہے کہ اگست 2025 میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے آئرن و اسٹیل اسکریپ (ری میلٹیبل، ایچ ایم ایس، شیریڈڈ اور ری رول ایبل اسکریپ) کی درآمد پر نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کی تھیں جو تمام ممالک سے کی جانے والی درآمدات پر لاگو ہیں۔


Comments
Comments are closed.