نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو خطے میں استحکام، معاشی ترقی اور اجتماعی پیشرفت کے لیے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ ریجنل ٹرانسپورٹ وزرائے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹرانسپورٹ منصوبوں میں ہم آہنگی، سرحد پار سہولتوں میں بہتری، مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، جو جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین سے جوڑتا ہے، اسے قدرتی طور پر علاقائی رابطوں کا مرکز بناتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو سڑک، ریل، فضائی، بحری، توانائی اور ڈیجیٹل راہداریوں کے ذریعے بغیر رکاوٹ روابط قائم کرنے ہوں گے تاکہ جغرافیہ کو ایک موقع میں تبدیل کیا جاسکے۔
ڈپٹی وزیرِاعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سی پیک اب پورے جنوبی اور وسطی ایشیا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ٹرانسپورٹ کے روابط اور تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے ایک محرک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف پاکستان اور چین ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ٹھوس فوائد پہنچانے والی شراکت داری کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موٹرویز اور قومی شاہراہیں علاقائی اور داخلی روابط کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جو اہم سرحدی گزرگاہوں کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑتی ہیں۔
اہم رابطہ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈپٹی وزیرِاعظم نے کہا کہ ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے فریم ورک معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو تجارت کے نئے راستے کھولنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ خطے میں نقل و حمل کے روابط کو مضبوط بنانے، تجارت میں سہولت پیدا کرنے اور علاقائی انضمام کو گہرا کرنے کے لیے عملی اور قابلِ عمل اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیرِ مواصلات نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور رابطے معاشی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر ٹرانسپورٹ نظام مسابقت، لچک اور پائیداری کے لیے ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس مختلف نقطۂ نظر کے تبادلے اور شراکت داریوں کے قیام کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جاسکے اور خطے کی کمیونٹیز کو مزید قریب لایا جاسکے۔

Comments
Comments are closed.