پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور آئی ٹی سے منسلک خدمات (آئی ٹی ایز) کی برآمدات جن میں کمپیوٹر سروسز اور کال سینٹر سروسز شامل ہیں، مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران 1.057 ارب ڈالر رہیں جو مالی سال 2025ء کی اسی مدت کے 876 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 20.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2025ء کے دوران آئی ٹی برآمدات کی ترسیلاتِ زر سالانہ بنیاد پر 25 فیصد بڑھ کر 366 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 292 ملین ڈالر تھیں۔
ماہانہ برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا جو اگست 2025 میں 337 ملین ڈالر سے بڑھ کر ستمبر 2025 میں 366 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران آئی سی ٹی (انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی) صنعت نے 953 ملین ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا۔ تجارتی سرپلس میں 24.6 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 765 ملین ڈالر تھا۔ وزیر نے بتایا کہ آئی سی ٹی خدمات کے شعبے میں واحد صنعت ہے جس نے سب سے زیادہ تجارتی سرپلس حاصل کیا، جبکہ آئی سی ٹی برآمدات خدمات کی مجموعی برآمدات کا 48 فیصد حصہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدی رقوم، جن میں کمپیوٹر سروسز اور کال سینٹر سروسز شامل ہیں، مالی سال 2023-24 میں 3.223 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو ریکارڈ سطح ہے، اور یہ 2022-23 میں 2.596 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 24 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments
Comments are closed.