ستمبر کے دوران 110 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ
- اشیاء وخدمات کی برآمدات 5 فیصد اضافے سے 3.43 ارب ڈالر رہیں
پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں ستمبر 2025 کے دوران 110 ملین ڈالر کا نمایاں سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ نے ستمبر میں 110 ملین ڈالر کا نمایاں سرپلس (اضافہ) ظاہر کیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے 52 ملین ڈالر کے خسارے کے واضح بہتری ہے۔
یہ سرپلس (اضافہ) رواں ماہ ترسیلات زر کی نمایاں آمد کی وجہ سے حاصل ہوا جو کہ 3.18 ارب ڈالر رہی اور یہ سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
ستمبر 2025 کے دوران ملک کی اشیاء اور خدمات کی کل برآمدات 3.43 ارب ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 3.28 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد زیادہ ہے۔
ایس بی پی کے مطابق ستمبر 2025 کے دوران کل درآمدات 6.02 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو کہ سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد اضافہ ہے۔
سہ ماہی اعدادوشمار
مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 594 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 502 ملین ڈالر خسارے کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے۔
کم اقتصادی نمو اور بڑھتی مہنگائی نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد دی جبکہ برآمدات میں اضافہ بھی اس میں معاون رہا۔
دریں اثنا تجزیہ کار ماہانہ سرپلس کو برآمدات کی بہتر کارکردگی، خدمات کی درآمدات میں کمی اور ریمیٹنس کی مستحکم آمد کو قرار دیتے ہیں، حالانکہ سہ ماہی کے اعداد و شمار اب بھی بڑھتی ہوئی درآمدی طلب کے باعث بیرونی شعبے پر دباؤ ظاہر کرتے ہیں۔


Comments
Comments are closed.