پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم پی اے سہیل آفریدی کو پیر کے روز خیبر پختونخوا (کے پی) کا نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد عمل میں آیا۔
کے پی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اعلان کیا کہ آفریدی نے 90 ووٹ حاصل کر کے الیکشن جیت لیا ہے۔
دریں اثنا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان یوسف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ارباب زرق خان کو کوئی ووٹ نہیں ملا کیونکہ ان کی جماعتوں کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔
فلور پر خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے سہیل آفریدی کو پیشگی مبارکباد دی اور صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے دہشت گردی اور معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر خصوصی توجہ دے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے گنڈا پور نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ عمران خان کی امانت تھی اور ان کے حکم کے مطابق میں ان کا اعتماد انہیں واپس کر رہا ہوں اور استعفیٰ دے رہا ہوں۔
سہیل آفریدی کون ہیں؟
سہیل آفریدی حلقہ پی کے 70 سے منتخب ہوئے اور پی ٹی آئی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں۔ وہ پارٹی کے طلبہ ونگ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن(آئی ایس ایف ) کے سابق صوبائی صدر بھی رہ چکے ہیں۔
موجودہ حکومت میں وہ پہلے وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات رہے، بعدازاں انہیں صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا قلمدان سونپا گیا۔ پی ٹی آئی کے طلبہ اور نوجوانوں کے حلقوں سے طویل وابستگی رکھنے والے سہیل آفریدی بتدریج پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک پہنچے ہیں۔

Comments
Comments are closed.