دہشت گردی کیخلاف نرم رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
- دہشت گردوں کو مقامی اور غیر ملکی عناصر کی حمایت حاصل ہے، فوجی ترجمان
پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے دوران انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے حوالے سے پریس کانفرنس کی ہے۔
پشاور میں کور ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے سوال کیا کہ کیا ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہوتا تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے اندر حملہ کرنے کے بعد پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کرتا تو کیا درست ہوتا؟
انہوں نے کہا کہ جب آپ کی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو بات چیت کے لیے آوازیں اٹھتی ہیں۔ سیاست کے ذریعے ہمیں الجھا دیا جاتا ہے اور دہشت گردی کے معاملے پر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کو مقامی اور غیر ملکی عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ سرحد پار حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا مضبوط قلعہ اور پشت پناہ افغانستان میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدے میں فیصلہ ہوا تھا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت پاکستان پر حملے کے لیے افغانستان کو اپنا اڈہ بناتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نرم رویہ کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کی ریاست کو کسی ایک شخص کی من مانی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اس سال خیبر پختونخوا میں 10 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 900 سے زائد دہشت گردوں کو ختم کیا۔ اسی دوران 516 فوجی اور شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ خوارج ختم کیے گئے اور 30 سے زائد خودکش بمبار افغانستان سے آئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سوال کیا کہ کیا خیبر پختونخوا میں موجودہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی طاقت جو 3,200 ہے کافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ دہشت گردی سیاسی اور مجرمانہ نیٹ ورک کی وجہ سے ہے۔ دہشت گردی میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حملوں میں گاڑیوں کی ٹریکنگ نہیں ملتی۔ اسمگلنگ ہوگی تو دہشت گرد بھی ساتھ آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غیر مؤثر حکمرانی کا خلا ہمارے شہداء کے خون سے پر کیا جارہا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عوام کے جانوں کے تحفظ کے لیے افواج ہر ضروری اقدام کررہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا، دہشت گردی کے پیچھے عوامل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) سانحے کے بعد قومی ایکشن پلان کو مکمل اتفاقِ رائے سے تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحت دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن خیبر پختونخوا میں کسی بھی دہشت گرد کو سزا نہیں دی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ آپ اکثر پوچھتے ہیں کہ دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہوئی، 2014 اور 2021 میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پولیس اور انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مضبوط بنایا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا، جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا فائدے کی وجہ سے خارجیوں کی سہولت کاری کررہا ہے اس کے پاس تین چوائسز ہیں جن میں سہولت کاری کرنے والا خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر اس ناسور کو اپنے انجام تک پہنچائے اور اگر یہ دونوں کام نہیں کرنے تو خارجیوں کے سہولت کار ہوتے ہوئے ریاست کی طرف سے ایکشن کے لیے تیار رہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوبارہ واضح کیا کہ پاکستان آرمی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور اس عزم کے بارے میں کسی کو بھی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

Comments
Comments are closed.