خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی پر وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے منظوری خیبر پختونخوا کابینہ کے 39ویں اجلاس میں دی گئی جو وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں کابینہ کے ارکان کے علاوہ چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر)، انتظامی سیکریٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے بھی شرکت کی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی پر وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے کابینہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 184(1) کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کرے گی۔
وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کابینہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں حکمرانی کو مضبوط بنانے، سروس ڈلیوری کو بہتر کرنے اور عوامی فلاح کو یقینی بنانے کے لیے متعدد دوررس اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 3 ہزار سے زائد عارضی لیکچررز کی بھرتی کی منظوری دے دی ہے۔
ڈاکٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ ان بھرتیوں پر سالانہ لاگت 3 ارب روپے آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے لیے ملازمت کی قدر کو بھی تسلیم کرتے ہوئے منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
تعلیمی معیار بہتر بنانے اور داخلوں میں اضافہ کرنے کے لیے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ جن اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے، انہیں ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر آؤٹ سورس کیا جائے گا۔
ڈاکٹر محمد علی سیف نے زور دیا کہ موجودہ اساتذہ کی ملازمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان اداروں میں تعلیم بدستور مفت فراہم کی جائے گی، تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.