ملک کے فیول آئل ٹرانسپورٹرز اس وقت تین بڑے مسائل — آٹومیشن میں خرابیاں، غیرقانونی لوڈنگ، اور غیر منصفانہ تقسیم — سے دوچار ہیں اور حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری اقدامات کریں، بصورتِ دیگر قانونی آپریٹرز مکمل طور پر نظام سے باہر ہو سکتے ہیں۔
اتوار کے روز بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن (او ٹی سی اے) کے نو منتخب صدر عابداللہ آفریدی نے کہا کہ غیر قانونی کمرشل لوڈنگ ٹرانسپورٹرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ دیرینہ مسائل منصفانہ مقابلے کو ختم اور شفافیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عابداللہ آفریدی نے کہا کہ غیر قانونی لوڈنگ ہمارے شعبے کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف قانونی آپریٹرز کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ مارکیٹ میں غیر منصفانہ ماحول پیدا کر رہی ہے۔ ہم اس عمل کو ہمیشہ کے لیے روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ آٹومیشن سسٹم میں موجود خامیوں کو بھی درست کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جو شفافیت لانے کے بجائے چند طاقتور ٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ان کے بقول آٹومیشن سے انصاف آنا چاہیے تھا، مگر یہ نظام چند بااثر عناصر کے مفاد میں استعمال ہو رہا ہے۔ چھوٹے ٹرانسپورٹرز اس نظام کے بوجھ تلے دب چکے ہیں، اور ہم ان غلطیوں کو درست کرنے کے لیے کام کریں گے تاکہ ہر کسی کو کام کا منصفانہ حصہ ملے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پائپ لائنز کو مقررہ کوٹے سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ٹینکرز کا حصہ کم ہو گیا ہے۔ پائپ لائنز اس وقت طے شدہ کوٹے سے زیادہ چلائی جا رہی ہیں، جس کے باعث ٹینکرز کا حصہ ناقابلِ قبول حد تک گھٹ گیا ہے۔ ہم اسے 55 فیصد کے اصل تناسب پر بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
صنعتی مبصرین کے مطابق، غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافے اور سسٹم کی خامیوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے آپریٹرز کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ ان کے خیال میں، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔
عابداللہ آفریدی نے کہا کہ ایسوسی ایشن شفافیت، منصفانہ مواقع اور احتساب کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہمارا مقصد ہر رکن کے حقوق کا تحفظ ہے — چاہے وہ بڑا کنٹریکٹر ہو یا چھوٹا آپریٹر۔ ہمیں مل کر اعتماد بحال کرنا اور اس شعبے میں شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔
آخر میں او ٹی سی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور قانونی ٹرانسپورٹرز کو ان کا جائز حصہ دے تاکہ ملک کے تیل سپلائی نظام میں استحکام برقرار رہ سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.