فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) ڈاکٹر آصف جاہ نے ایف بی آر کے سینئر افسران کی مبینہ بدانتظامی سے متعلق ایک کیس چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو بھجوا دیا ہے، اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کی جانچ کریں اور مناسب کارروائی عمل میں لائیں۔
ایف ٹی او کے حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ مستقبل میں اس نوعیت کی کوتاہی دوبارہ پیش نہ آئے۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق، عوامی مفاد میں دائر کی گئی شکایت وحید شہزاد بٹ بمقابلہ چیئرمین ایف بی آر و دیگر پر اپنے مشاہدات میں ایف ٹی او نے قرار دیا کہ ایف بی آر کے سینئر افسران کا طرزِ عمل غیر معقول تھا اور اس میں غفلت، عدم توجہ اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں نااہلی ظاہر ہوتی ہے، جو قانون کے تحت بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہے۔
ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور ایف بی آر میں ایک جامع اصلاحاتی عمل شروع کرنا چاہیے تاکہ ملک کے ٹیکسیشن نظام کی شفافیت اور ساکھ برقرار رہ سکے۔
ایف ٹی او کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ممبر آئی آر (آپریشنز)، ممبر آئی آر (پالیسی) اور ڈی جی (آئی ٹی اینڈ ڈی ٹی)، ایف بی آر نے شکایت کنندہ کے الزامات پر قانونی نوٹس موصول ہونے کے باوجود پیرا وائز جوابات جمع نہیں کرائے۔ انہوں نے اس اہم نوعیت کے معاملے پر سماعت میں بھی شرکت نہیں کی۔ سینئر افسران کا یہ رویہ غیر معقول ہے اور ان کی سرکاری ذمہ داریوں میں غفلت اور عدم توجہ کو ظاہر کرتا ہے، جو بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔
شکایت اور ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا کہ شکایت کنندہ نے ایف ٹی او سے یہ ہدایت طلب کی تھی کہ ایف بی آر اپنے ٹیکس ریٹرن کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فارم سے موجودہ تخمینی مارکیٹ ویلیو کا کالم ہٹا دے، جو 23 ستمبر 2025 کو بغیر کسی قانونی طریقہ کار کے شامل کیا گیا تھا اور جس سے ٹیکس دہندگان کو مشکلات پیش آئیں۔
ایف ٹی او کے حکم نامے کے مطابق، وزیراعظم پاکستان نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے سفارش کی کہ یہ کالم ریٹرن فارم سے ہٹا دیا جائے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ کالم آئیرس میں دستیاب ٹیکس ریٹرن فارم سے حذف کر دیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.