سرین ایئر نے ”غیر متوقع حالات“ کے باعث اپنے فضائی آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے
پاکستانی نجی ایئرلائن سرین ایئر نے کہا ہے کہ اس کے فضائی آپریشنز ”غیر متوقع حالات“ کے باعث عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
ایئرلائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”یہ صرف ایک وقتی تعطل ہے اور ہماری ٹیم متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر سروس کی فوری بحالی کے لیے بھرپور محنت کر رہی ہے۔“
تاہم یہ بیان پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ( پی سی اے اے) کی جانب سے سرین ایئر کا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (اے او سی) معطل کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکام نے جمعے کے روز تصدیق کی ہے کہ ایئرلائن اپنے بیڑے میں کوئی بھی قابلِ پرواز طیارہ برقرار رکھنے میں ناکام رہی تھی۔
پی سی اے اے کے عوامی اعلامیے کے مطابق ”لائسنس کی معطلی اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایئرلائن اپنے آپریشنز کے لیے طیارے مہیا نہیں کرتی۔ سرٹیفکیٹ کی بحالی کا معاملہ متعلقہ ریگولیٹری تقاضے پورے ہونے کے بعد دوبارہ زیرِ غور لایا جائے گا۔“
سرین ایئر نے 2017 میں ایک نجی مقامی ایئرلائن کے طور پر اپنے آپریشنز کا آغاز کیا تھا مگر حالیہ ہفتوں میں اس کی پانچوں بوئنگ 737 طیاروں پر مشتمل بیڑہ ناقابلِ پرواز ہو گیا ہے، جس کے باعث ایئرلائن کئی ہفتوں سے فضائی آپریشن معطل کیے ہوئے ہے۔
ذرائع کے مطابق سرین ایئر مالی مشکلات کے باعث پہلے ہی اپنے آپریشنز جاری رکھنے میں دشواریوں کا سامنا کر رہی تھی۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے سرین ایئر کو ہدایت کی ہے کہ لائسنس معطلی کے بعد وہ اپنے تمام متعلقہ سرٹیفکیٹس تصدیق (انڈورسمنٹ) کے لیے واپس جمع کرائے۔
مسافروں اور دیگر فریقین کو مخاطب کرتے ہوئے ایئرلائن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”آپ کا تحفظ، آرام اور اعتماد ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم اس دوران آپ سے صبر و تحمل کی درخواست کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ آپ کو باقاعدہ اطلاعات فراہم کی جائیں گی۔“
ایئرلائن نے مزید کہا ہے کہ ”ہم آپ کو بہت جلد دوبارہ اپنے ساتھ سفر کرتے دیکھنے کے منتظر ہیں۔“


Comments
Comments are closed.