لاجسٹکس شعبہ تجارت و سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ
وفاقی چیمبر کے صدر عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ نے اپنی تازہ ترین پالیسی بریف پاکستان کی لاجسٹکس کارکردگی اور اس کا تجارتی مسابقت پر اثر جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان کا لاجسٹکس سیکٹر جو جی ڈی پی میں 15.6 فیصد حصہ ڈالتا ہے ملک میں تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے ایک بنیادی رکاوٹ بن چکا ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے بتایا کہ اس کے برعکس، امریکہ، جاپان اور سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ممالک میں لاجسٹکس کا حصہ محض 8 سے 9 فیصد جی ڈی پی تک محدود ہے، جو اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں لاجسٹکس کے اخراجات غیر متناسب طور پر زیادہ ہیں، کارکردگی میں کمزوریاں موجود ہیں اور چند محدود شعبوں پر حد سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی ورلڈ بینک کے لاجسٹکس پرفارمنس انڈیکس (ایل پی آئی) میں تشویشناک گراوٹ ہوئی ہے، جہاں 2016 میں 68 ویں نمبر سے 2018 میں 122 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ ناکافی اعداد و شمار اور اسٹیک ہولڈرز کی کمزور شمولیت کے باعث 2023 کے ایل پی آئی میں پاکستان کو مکمل طور پر شامل ہی نہیں کیا گیا، جس سے ملک کی سرمایہ کاروں اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے برعکس بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے حریف ممالک نے اپنے لاجسٹکس نظام کو بتدریج بہتر بنایا ہے اور عالمی ویلیو چینز میں زیادہ گہرائی سے ضم ہو گئے ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کی ریسرچ اسٹڈی کے مطابق پاکستان کا 94 فیصد کارگو سڑک کے ذریعے منتقل ہوتا ہے؛ جبکہ صرف 6 فیصد ریل کے ذریعے ہوتا ہے۔ حاالنکہ ریل نہ صرف سستا بلکہ محفوظ اور ماحول دوست ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان ریلوے کے آپریشنل انجنوں کی تعداد 2011 میں 528 تھی جو 2025 میں گھٹ کر 449 رہ گئی ہے، جبکہ مال برداری کا حجم 2019-20 میں 74 لاکھ ٹن سے کم ہو کر 2024-25 میں صرف 58 لاکھ ٹن رہ گیا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بندرگاہوں کی کمزور کارکردگی بھی بڑے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم، جو ملک کی 95 فیصد سے زائد بیرونی تجارت سنبھالتے ہیں، محض ایک تہائی صلاحیت پر کام کر رہے ہیں، جہاں کنٹینرز کے قیام کا اوسط دورانیہ 5.5 سے 6.5 دن ہے، جبکہ بھارت میں درآمدی کنٹینرز کا دورانیہ 2.6 دن، بنگلہ دیش میں برآمدی کنٹینرز کا 1.6 دن اور ویتنام میں 4 دن ہے۔ گوادر پورٹ، حالانکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت اس کی اسٹریٹجک حیثیت ہے، پھر بھی ملک کی مجموعی تجارت میں اس کا حصہ صرف 0.5 فیصد سے کم ہے جس کی بڑی وجہ پسماندہ علاقوں سے ناقص رابطہ اور سپلائی چین میں محدود شمولیت ہے۔
رپورٹ میں مزید اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کا 30 سے 40 فیصد حصہ بعد از کاشت ناکافی گوداموں اور کولڈ چین سہولیات نہ ہونے کے باعث ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف غذائی تحفظ کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ زرعی برآمدات کی صلاحیت کو بھی محدود کرتی ہے۔ اسی طرح ڈائمنشنل اسٹونز جیسی صنعتیں، جن کی برآمدی صلاحیت کا تخمینہ 1 سے 1.5 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، بھی مخصوص فریٹ کوریڈورز اور مکینائزڈ مائننگ نہ ہونے کی وجہ سے رکاوٹوں کا شکار ہیں۔
ان مسائل کے حل کے لیے عاطف اکرم شیخ نے ایک جامع اصلاحاتی روڈ میپ تجویز کیا ہے۔ اس میں ٹرکنگ سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینا شامل ہے تاکہ فلیٹ کی جدید کاری کو باضابطہ فنانسنگ کے ذریعے ممکن بنایا جا سکے، نیشنل لاجسٹکس اتھارٹی کا قیام تاکہ مختلف وزارتوں میں بٹی نگرانی کو یکجا کیا جا سکے، بندرگاہوں اور پیداواری مراکز کے قریب گوداموں اور کولڈ اسٹوریج کی گنجائش بڑھانا، گوادر کو ریجنل ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر مستحکم کرنا، اور جدید ڈرائیورز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اور ڈیجیٹل فریٹ میچنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے نظامی صلاحیت کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان ریلوے کی فوری جدید کاری پر بھی زور دیا گیا ہے جس کے لیے جدید رولنگ اسٹاک، بہتر سگنلنگ سسٹمز اور ڈیجیٹل کارگو مانیٹرنگ شامل ہیں تاکہ ریل کو طویل فاصلے کی مال برداری کے مرکزی ستون کے طور پر بحال کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.