BR100 Increased By (1.01%)
BR30 Increased By (1.45%)
KSE100 Increased By (0.51%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.24 Increased By ▲ 0.25 (0.74%)
CNERGY 8.13 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 21.00 Increased By ▲ 0.16 (0.77%)
DGKC 197.50 Increased By ▲ 4.53 (2.35%)
FABL 89.68 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
FCCL 53.90 Increased By ▲ 1.07 (2.03%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.75 Increased By ▲ 0.78 (4.11%)
HBL 286.75 Increased By ▲ 1.25 (0.44%)
HUBC 215.66 Increased By ▲ 1.28 (0.6%)
HUMNL 10.99 Increased By ▲ 0.11 (1.01%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.48 Decreased By ▼ -0.41 (-1.47%)
MLCF 87.89 Increased By ▲ 1.38 (1.6%)
OGDC 324.89 Increased By ▲ 4.93 (1.54%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 17.29 Increased By ▲ 0.62 (3.72%)
PIOC 270.70 Increased By ▲ 4.64 (1.74%)
PPL 232.80 Increased By ▲ 4.62 (2.02%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.60 Increased By ▲ 0.42 (0.42%)
SSGC 27.14 Increased By ▲ 0.54 (2.03%)
TELE 8.54 Increased By ▲ 0.26 (3.14%)
TPLP 8.76 Increased By ▲ 0.54 (6.57%)
TRG 71.60 Increased By ▲ 1.89 (2.71%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز(ڈی جی ٹی او) نے آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (اے پی سی سی اے) کے چیئرمین ارشد خورشید کے خلاف دائر شکایات کو مسترد کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کو اپنے بائی لاز میں ترمیم کے لیے 60 دن کی مہلت دے دی ہے، تاکہ نئی تعریف اور شواہد سے متعلق معیار کو شامل کیا جا سکے۔

ریگولیٹر بلال خان پاشا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی حکم میں دو مربوط شکایات کو نمٹا دیا گیا۔ پہلی شکایت جون 2025 میں سلطان انٹرپرائزز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد خورشید نے مارچ 2025 میں ای میل کے ذریعے استعفیٰ دے دیا تھا، جو قانونی طور پر مؤثر ہو چکا تھا، تاہم ڈی جی ٹی او نے قرار دیا کہ ایسوسی ایشن کے آرٹیکل 18( 4 ) کے تحت استعفے کی باقاعدہ منظوری ضروری ہے، جو پوری نہیں ہوئی، اس لیے ارشد خورشید کا چیئرمین بننا درست ہے۔

دوسری شکایت میں 19 اراکین کو ایسوسی ایٹ سے کارپوریٹ کلاس میں منتقل کرنے کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا، جس میں غیر مستند بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر سالانہ ٹرن اوور کا تعین کیا گیا تھا۔ ڈی جی ٹی او نے وضاحت کی کہ سالانہ ٹرن اوور سے مراد وہ تمام مجموعی آمدنی ہے جو ایک مالی سال میں معمول کی کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہو، جس میں سروس فیس شامل ہو، مگر بالواسطہ ٹیکسز اور غیر آپریشنل آمدنی شامل نہ ہوں۔

اب مستقبل میں ممبرشپ کی تبدیلی صرف آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں یا ایف بی آر کے جمع کرائے گئے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن کی بنیاد پر کی جا سکے گی۔ بینک اسٹیٹمنٹس یا خود ساختہ سرٹیفکیٹس کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل کو ویب سائٹ نہ چلانے پر وارننگ دی گئی ہے اور انہیں 6 ماہ میں کارپوریٹ گورننس سے متعلق تربیت مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Comments

Comments are closed.