BR100 Increased By (0.41%)
BR30 Increased By (0%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 57.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.11 (0.41%)
BOP 34.19 Increased By ▲ 0.50 (1.48%)
CNERGY 10.23 Decreased By ▼ -0.38 (-3.58%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.08 (0.44%)
DGKC 207.48 Decreased By ▼ -2.42 (-1.15%)
FABL 100.60 Increased By ▲ 1.65 (1.67%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.62 Increased By ▲ 0.16 (0.97%)
GGL 24.70 Increased By ▲ 0.88 (3.69%)
HBL 303.13 Increased By ▲ 0.71 (0.23%)
HUBC 220.04 Increased By ▲ 1.10 (0.5%)
HUMNL 10.40 Decreased By ▼ -0.14 (-1.33%)
KEL 7.38 Increased By ▲ 0.10 (1.37%)
LOTCHEM 29.40 Decreased By ▼ -0.25 (-0.84%)
MLCF 95.00 Decreased By ▼ -1.36 (-1.41%)
OGDC 317.15 Decreased By ▼ -1.07 (-0.34%)
PAEL 43.00 Increased By ▲ 1.23 (2.94%)
PIBTL 16.77 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 296.21 Decreased By ▼ -0.41 (-0.14%)
PPL 220.20 Increased By ▲ 0.03 (0.01%)
PRL 49.64 Increased By ▲ 0.59 (1.2%)
SNGP 105.50 Decreased By ▼ -0.63 (-0.59%)
SSGC 28.36 Decreased By ▼ -0.78 (-2.68%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.03 (0.34%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 0.59 (4.72%)
TRG 59.65 Decreased By ▼ -0.57 (-0.95%)
UNITY 10.47 Increased By ▲ 0.45 (4.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان اطلاعات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں نئی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں کسی بھی اسٹاٹیوٹری ریگولیٹری آرڈر(ایس آراو ) کے ذریعے ریٹرن فارم میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ ٹیکس سال 2025 کا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 7 جولائی کو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا، جس کے صفحہ 66 پر پہلے ہی یہ تقاضا موجود ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنی جائیدادوں یا اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کریں۔ متعدد ٹیکس دہندگان اس کالم میں زیرو درج کر رہے تھے، جس پر پابندی لگائی گئی ہے ، تاہم ایف بی آر نے واضح کیا کہ مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا ٹیکس دہندہ کی صوابدید پر ہے۔

ایف بی آر کے مطابق صاحبِ حیثیت افراد پہلے ہی سیکشن 7 ای کے تحت اپنے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ انکشافات ٹیکس کے حساب کتاب سے منسلک نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں غلطی کی بنیاد پر کوئی نوٹس جاری کیا جائے گا۔ ایف بی آر کو توقع ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنی جائیدادوں کی قیمت کو ممکنہ حد تک مارکیٹ ویلیو کے قریب ظاہر کریں گے۔

مزید کہا گیا ہے کہ جو ٹیکس دہندگان پہلے ہی اپنے ریٹرن جمع کرا چکے ہیں، انہیں کسی ترمیم یا دوبارہ فائل کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ مارکیٹ ویلیو کو ٹیکس کیلکولیشن یا ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے تصفیے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ آئی رس (آئی آر آئی ایس) سسٹم باقاعدہ طور پر فعال اور مؤثر طریقے سے چل رہا ہے اور ٹیکس دہندگان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آخری تاریخ 30 ستمبر سے قبل اپنے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرا دیں۔

Comments

Comments are closed.