چیٹ جی پی ٹی سے پوچھیں، کون سے اسٹاک خریدیں؟ اے آئی سے روبو ایڈوائزری مارکیٹ میں تیزی
جیسے جیسے چیٹ جی پی ٹی اپنی تیسری سالگرہ کے قریب پہنچ رہا ہے، ریٹیل سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اسٹاک منتخب کرنے کے لیے اس چیٹ بوٹ کا استعمال کر رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق ہر 10 میں سے کم از کم 1 سرمایہ کار اب چیٹ جی پی ٹی یا اسی نوعیت کے دیگر اے آئی ٹولز کے ذریعے سرمایہ کاری کے فیصلے کرتا ہے۔ اس رجحان نے روبو ایڈوائزری مارکیٹ کو فروغ دیا ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ طریقہ ابھی تک روایتی مالیاتی مشیروں کا متبادل نہیں بن سکتا۔
مصنوعی ذہانت کی بدولت اب عام سرمایہ کار بھی وہ سہولت حاصل کر رہے ہیں جو کبھی صرف بڑے بینکوں یا ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے پاس تھی، یعنی اسٹاک کی جانچ، نگرانی اور تجزیہ۔ ریسرچ اینڈ مارکیٹس کے مطابق روبو ایڈوائزری مارکیٹ، جس میں فِن ٹیک کمپنیاں، بینک اور ویلتھ مینیجرز شامل ہیں، 2029 تک 470.91 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کے 61.75 ارب ڈالر کے مقابلے میں 600 فیصد اضافہ ہوگا۔
ہانگ کانگ کے تجزیہ کار جیریمی لیونگ، جو یو بی ایس میں تقریباً دو دہائیاں کام کرنے کے بعد حال ہی میں ملازمت سے محروم ہوئے، اب چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے اپنے سرمایہ کاری پورٹ فولیو کو سنبھالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس اب بلومبرگ ٹرمینل جیسی مہنگی سہولت نہیں ہے، لیکن چیٹ جی پی ٹی بہت حد تک اسی جیسا کام کر دیتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ٹول پے وال کے پیچھے موجود معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے اہم پہلوؤں سے محروم رہنے کا خدشہ رہتا ہے۔
ای ٹورو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 11 ہزار ریٹیل سرمایہ کاروں میں سے تقریباً نصف ایسے ہیں جو اے آئی ٹولز جیسے چیٹ جی پی ٹی یا گوگل کے جیمینی کو سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ ہیں، جب کہ 13 فیصد پہلے ہی ان کا استعمال کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں فائنڈر کے سروے کے مطابق 40 فیصد جواب دہندگان ذاتی مالی مشورے کے لیے چیٹ بوٹس اور اے آئی پر انحصار کرتے ہیں۔
ای ٹورو کے یو کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈین موچلسکی کے مطابق مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب لوگ عمومی ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی یا جیمینی کو جادوئی گیند سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ تجزیے کے لیے صرف وہ پلیٹ فارم قابلِ اعتماد ہیں جو خاص طور پر اسی مقصد کے لیے تربیت یافتہ ہوں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فائنڈر نے مارچ 2023 میں چیٹ جی پی ٹی سے منتخب کردہ 38 اسٹاکس کا ایک باسکٹ بنایا جس میں این ویڈیا، ایمیزون اور پروکٹر اینڈ گیمبل جیسی کمپنیاں شامل تھیں۔ یہ باسکٹ اب تک تقریباً 55 فیصد بڑھ چکا ہے، جو برطانیہ کے مقبول فنڈز کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ اے آئی سرمایہ کاری کو عام لوگوں تک لے آیا ہے، لیکن اس میں بڑے خطرات ہیں۔ جیریمی لیونگ کے بقول، اگر لوگ بحران یا کساد بازاری میں انحصار کرنے لگیں تو انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.