سپریم کورٹ آف پاکستان نے پیر کے روز وفاقی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ 45 روز کے اندر قانون سازی کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کو سویلین عدالتی نظام کے تحت اپیل کا حق فراہم کرے۔
یہ حکم جسٹس امین الدین خان کے تفصیلی تحریری فیصلے میں جاری کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگرچہ آرمی ایکٹ میں بنیادی دفعات موجود ہیں، تاہم شہریوں کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا موثر فورم دستیاب نہیں۔
واضح رہے کہ 5 مئی کو انٹرا کورٹ اپیل (آئی سی اے) کی سماعت کے دوران، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات سے متعلق سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس امر پر زور دیا تھا کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت شہریوں کو اپیل کے مناسب مواقع حاصل نہیں ہیں۔
جسٹس امین الدین خان کے اکثریتی فیصلے، جس سے جسٹس حسن رضا ششم، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال نے اتفاق کیا، میں قرار دیا گیا ہے کہ اگرچہ آرمی ایکٹ میں مقدمات کے لیے بعض ضابطہ جاتی اصول موجود ہیں، تاہم شہریوں کے لیے اپیل کا کوئی واضح سویلین فورم نہ ہونے کے باعث یہ اپیل کا نظام آئینی طور پر نامکمل ہے۔
عدالت نے اس امر پر زور دیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کو آئین کے آرٹیکل 10(اے) کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، جو ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کا حق فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 175(3)، جو عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ہے، فوجی عدالتوں کی ممانعت کرتا ہے۔ تاہم یہ واضح کیا کہ موجودہ نظام شہریوں کو حاصل بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔


Comments
Comments are closed.