BR100 Increased By (0.65%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.49 Increased By ▲ 0.29 (1.15%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.00 Increased By ▲ 2.03 (1.05%)
FABL 89.89 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.38 Increased By ▲ 0.41 (2.16%)
HBL 287.00 Increased By ▲ 1.50 (0.53%)
HUBC 215.29 Increased By ▲ 0.91 (0.42%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.78 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
MLCF 87.14 Increased By ▲ 0.63 (0.73%)
OGDC 322.11 Increased By ▲ 2.15 (0.67%)
PAEL 39.85 Increased By ▲ 0.43 (1.09%)
PIBTL 16.96 Increased By ▲ 0.29 (1.74%)
PIOC 270.20 Increased By ▲ 4.14 (1.56%)
PPL 229.75 Increased By ▲ 1.57 (0.69%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.72 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ ( ایس ایم ڈی اے) پر دستخط دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہیں، جو نہ صرف دفاعی شعبے بلکہ معیشت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

قومی معیشت پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کے بعد سرمایہ کاری کے فروغ، مشترکہ منصوبوں، غیر ملکی سرمایہ کاری، تیل و گیس کے شعبے میں تعاون اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل، دواسازی، چاول، سمندری خوراک، گوشت، پھل و سبزیاں، ڈیری مصنوعات، چمڑے کی اشیاء اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سعودی عرب کو برآمد کرنے کے لیے نمایاں صلاحیت رکھتی ہیں، جو دفاعی معاہدے کے بعد مزید بڑھ سکتی ہیں۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان معیار کی پاسداری، تجارتی رکاوٹوں اور معلومات کی کمی کو دور کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ معیاری سازی، سینیٹری و فائٹو سینیٹری شرائط، تکنیکی تقاضوں اور سرٹیفکیٹ آف اوریجن کے قوانین پر مذاکرات سے پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

پاکستان کی معیشت پر اثرات

علاقائی امور کے ماہر ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ اس تاریخی معاہدے سے پاکستان کی میکرو اکانومی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق قرضوں کی فراہمی، تیل کی ادھار ادائیگی پر دستیابی، جے ایف-17 تھنڈر کی خریداری، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور گہرے تجارتی تعلقات اب متوقع ہیں۔ انہوں نے اسے پیراڈائم شفٹ قرار دیا۔

ڈاکٹر خان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور چین کی سہ فریقی شراکت داری بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک کو وسعت دینے کے ساتھ زراعت، صنعت، توانائی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے مواقع فراہم کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کو زرعی زمین کی پیشکش، ہنرمند افرادی قوت کی برآمد اور خوراک کے تحفظ کے منصوبے پاکستان کی معیشت کو روزگار، سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے استحکام دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

فوری اثرات اور سعودی آئل فیسلٹی

معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی ہے، جس سے مالی دباؤ میں کمی کی توقع ہے۔ ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ سعودی آئل فیسلٹی ( ایس او ایف ) پاکستان کی توانائی درآمدات کو سہارا دے گی اور پیٹرولیم مصنوعات کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنا کر مالی بوجھ کم کرے گی۔

یہ سہولت وسیع مالی تعاون کا حصہ ہے، جس کے تحت سعودی عرب پہلے ہی اسٹیٹ بینک میں 5 ارب ڈالر جمع کرا چکا ہے۔ سعودی فنڈ برائے ترقی پاکستان میں توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ اور انفرااسٹرکچر کے 40 سے زائد منصوبوں کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کر چکا ہے۔

افرادی قوت اور ٹیکنالوجی تعاون

2023 تک سعودی عرب میں 26 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، جن میں زیادہ تر محنت کش طبقہ شامل ہے، تاہم ویژن 2030 کے تحت معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے باعث ہنرمند افرادی قوت کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید مالیاتی نظام، فِن ٹیک اور پانڈا بانڈز کے ذریعے سعودی آئل فیسلٹی سے مزید فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب ٹیکنالوجی کی طاقت بنتا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ڈیجیٹل اور معاشی شراکت داری کو بڑھانے کا سنہری موقع ہے۔

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تا اگست کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 691 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 584 ملین ڈالر تھیں۔ یہ سال بہ سال 107 ملین ڈالر کا اضافہ ہے۔

پاکستانی حکومت پہلے ہی اے آئی پالیسی، نیشنل فائبرائزیشن پالیسی اور سیمی کنڈکٹر پالیسی متعارف کرا چکی ہے جبکہ ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 کی منظوری ایک بڑی کامیابی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ہنرمند افرادی قوت، لاگت میں مؤثر حل اور خصوصی خدمات فراہم کر کے قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، سائبر سیکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے سعودی مارکیٹ بے پناہ مواقع رکھتی ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی، عالمی معیار کی خدمات اور طویل المدتی شراکت داری دونوں ممالک کو مشترکہ ترقی کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔

Comments

Comments are closed.