پاکستان اپنی سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا، اسحاق ڈار
- حالیہ بھارت-پاکستان تنازع میں اسرائیل نے بھارت کو مکمل تعاون فراہم کیا، وزیر خارجہ
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کسی صورت میں اپنی سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا، چاہے ملوث ملک سب سے چھوٹا ہو یا سب سے بڑا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس مضبوط فوج، فضائیہ اور بحریہ ہے۔ اور اگر ہمیں چیلنج کیا گیا تو ہم جواب دے سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔
جب اسرائیل کے قطر پر حملے اور یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، تو ڈپٹی وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے پاس معلومات ہیں کہ اسرائیل نے حالیہ بھارت-پاکستان تنازع میں بھارت کو مکمل تعاون فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے اس سال کے اوائل میں جنگ کے واقعات دیکھے اور تمام دعوے بے نقاب ہو گئے۔ خود ساختہ بالادستی دفن ہو گئی، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو جنگ میں دھکیل دیا گیا اور جو کچھ ہم نے کیا، وہ خود دفاع میں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے میں کسی بھی غیر مستحکم صورتحال نہیں چاہتا۔ پاکستان اپنے تمام پڑوسیوں بشمول بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے دہشت گرد حملوں میں بعض ممالک کے ملوث ہونے کے قابل اعتماد شواہد کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ ہم نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، پھر بھی پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے جو کہ منصفانہ نہیں ہے۔
ڈپٹی وزیر اعظم نے اسرائیل کے قطر پر حملے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین، انسانی قوانین اور اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کا ایک ملک پر کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا، یہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اگر اپنی جارحیت نہیں روکتا تو ایک واضح لائحہ عمل اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف اسرائیل کے حملوں کی مذمت کافی نہیں، اس کے خلاف واضح کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل امن نہیں چاہتا، اور دنیا کو اب اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اسرائیل کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔
ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور فلسطینی عوام تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کے فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیار دشمن ممالک کے خلاف روک تھام کے لیے ہے۔


Comments
Comments are closed.