سندھ تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ دریائے سندھ میں آنے والا سیلاب اور نئی موسلادھار بارشیں ایک ساتھ آنیوالی والی ہیں، جس سے صوبے کے بڑے حصے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ گڈو بیراج پر 6 اور 7 ستمبر کے درمیان اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے جو 7 سے 9 ستمبر کے درمیان متوقع شدید بارشوں کے ساتھ آ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے شہری علاقوں میں پانی بھرنے، دریاؤں کے کنارے ٹوٹنے اور نشیبی اضلاع میں تباہی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں موجود لو پریشر سسٹم 6 ستمبر تک راجستھان اور سندھ کے قریب پہنچ جائے گا، جس سے تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، خیرپور، دادو، کشمور، سکھر، لاڑکانہ، گھوٹکی، کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ اور بدین سمیت کئی اضلاع میں طوفانی بارشیں متوقع ہیں۔
گڈو بیراج پر بہاؤ 3 لاکھ 37 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو بڑھ کر 3.9 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے۔ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ سندھ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بیراجوں کی نگرانی معیاری طریقہ کار کے مطابق کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پانی کو غلط وقت پر چھوڑا گیا تو نقصان بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری رکھیں۔ اس دوران پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے کئی اضلاع میں بھی 6 سے 9 ستمبر کے درمیان طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے اربن و فلیش فلڈنگ، زمین کھسکنے اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.