لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ خان کی ضمانت منظور کرلی
- شیرشاہ پر 9 مئی 2023 کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے جمعرات کے روز علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ خان کی جناح ہاؤس حملہ کیس میں ضمانت منظور کرلی۔
پی ٹی آئی کے مطابق شیرشاہ کے وکیل ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر نے علیمہ خان کے دونوں بیٹوں کی ضمانتیں منظور کروانے میں کامیابی حاصل کی۔
شیرشاہ کو 22 اگست کو 9 مئی کے فسادات میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اس سے ایک روز قبل اس کے بھائی شہریز خان کو اسی الزامات پر حراست میں لیا گیا تھا۔ شہریز کی ضمانت بھی اے ٹی سی نے ایک روز پہلے منظور کی تھی۔
عدالت کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے، اپنے بیٹوں کے وکیل کے ہمراہ علیمہ خان نے خوشی کا اظہار کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس طرح سے اٹھایا نہیں جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا موقف ہے کہ چاہے ان کے پورے خاندان کو اغوا کرلیا جائے، وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
پی ٹی آئی کے مطابق آج کی سماعت میں استغاثہ کے پاس شیرشاہ کے خلاف کچھ بھی پیش کرنے کو نہیں تھا۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ اس کیس میں ابھی تک چالان بھی جمع نہیں کرایا گیا اور یہ غیر یقینی ہے کہ ٹرائل کب شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیرشاہ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور وہ کسی بھی ہنگامہ آرائی میں شامل نہیں تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی ملزمان جو اس سے کہیں زیادہ سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی بھی ضمانتیں ہوچکی ہیں۔
وکیل نے مزید کہا کہ کسی ایک ملزم کو صرف دوسرے کی شناخت کی بنیاد پر ملوث نہیں کیا جا سکتا۔
اے ٹی سی نے منگل کو استغاثہ کو شیرشاہ کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست میں کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے 4 ستمبر تک مزید وقت دیا تھا۔ اس سے قبل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ریکارڈ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا گیا ہے، اس لیے مزید وقت درکار ہے۔
شیرشاہ کے وکیل نے استغاثہ کی اس درخواست کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ پیش نہ کرنا محض تاخیری حربہ ہے۔ تاہم عدالت نے استغاثہ کو وقت دے دیا اور سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔ شیرشاہ کے والد، عامر سہیل خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان کو 9 مئی 2023 کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزامات پر کئی مقدمات کا سامنا ہے۔ یہ مظاہرے اُس وقت پھوٹ پڑے تھے جب پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا۔
عمران خان، جو 2023 سے جیل میں ہیں اور کرپشن، زمینوں میں دھوکہ دہی اور سرکاری راز افشا کرنے کے مقدمات بھگت رہے ہیں، کو الگ سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔
حکومت نے عمران اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو اشتعال دلایا، جنہوں نے فوجی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، جن میں راولپنڈی میں جی ایچ کیو اور لاہور میں جناح ہاؤس بھی شامل تھے۔
سابق وزیراعظم عمران خان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، تاکہ ان کی جماعت کو توڑا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.