عالمی سروے کے مطابق سال 2024 کے دوران پاکستان میں ہر دوسرا شخص آن لائن مالی فراڈ کا شکار ہوا جب کہ ہر پانچ میں سے ایک شخص کو ڈیجیٹل اسکیمز کا سامنا ایک سے زائد مرتبہ کرنا پڑا۔
ویزا کی جانب سے سیمیا (CEMEA) خطے (افریقہ، مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ کی 17 مارکیٹس) بشمول پاکستان میں کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان میں نصف سے زائد صارفین (55 فیصد) پہلے کسی نہ کسی اسکیم کا شکار ہوچکے ہیں، جو کہ 2023 میں 52 فیصد تھا۔ مزید براں، 20 فیصد افراد متعدد مواقع پر متاثر ہوئے۔
ایسے فراڈ کیسز میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے جب ملک میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کاروبار و عوام نقد اور چیک پر مبنی لین دین کے متبادل کے طور پر آن لائن ادائیگی کے حل اپنا رہے ہیں۔
اس پس منظر میں ویزا کے پاکستان اور افغانستان کے کنٹری منیجر عمر ایس خان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ پانچ سال میں صارفین کو آن لائن مالی فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے اے آئی، دیگر جدید ٹیکنالوجیز اور نیٹ ورک کنیکٹیوٹی میں 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویزا بایومیٹرک ادائیگی کے حل متعارف کرانے اور جہاں ممکن ہو پاکستان میں بایومیٹرک تصدیقی طریقے نافذ کرنے پر کام کررہا ہے جس کا مقصد موجودہ دو مرحلوں پر مبنی تصدیقی عمل کو جدید اور محفوظ نظام سے تبدیل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، ویزا ملک میں ٹوکن پر مبنی محفوظ ادائیگی کے حل کو بھی وسعت دے رہا ہے۔
عمر ایس خان نے کہا کہ قدرتی طور پر سائبر خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال اور ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے وسعت پانے کے پس منظر میں یہ صورتحال تشویشناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صارفین کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ نصف سے زائد افراد (53 فیصد) کا ماننا ہے کہ فراڈ یا غیر مجاز لین دین ان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اعتماد کو کم کر دے گا۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ ماضی میں فراڈ کے شکار ہوئے ان میں 84 فیصد نے زیادہ تر یا مکمل طور پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اعتماد ظاہر کیا جو ان لوگوں (80 فیصد) کی سطح سے بھی زیادہ ہے جو کبھی فراڈ کا شکار نہیں ہوئے۔
ویک فیلڈ ریسرچ نے پاکستان میں 18 سال سے زائد عمر کے 500 بالغ افراد کا سروے کیا۔
عمر ایس خان نے کہا کہ ہم خطرے اور فراڈ کے انتظام کے لیے اے آئی کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور جہاں ممکن ہو روایتی تصدیقی طریقوں سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ موجودہ دوہری تصدیقی نظام ابھی قائم ہے، لیکن ہم بایومیٹرک تصدیق/ویریفیکیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ویزا ٹوکن پر مبنی ادائیگی کے حل کے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہے، اس نظام میں حساس ادائیگی کی معلومات کی جگہ منفرد ڈیجیٹل ٹوکن استعمال ہوتے ہیں جس سے فراڈ کی صورت میں اصل معلومات محفوظ نہیں رہتیں جس سے ڈیٹا چوری کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے، ہر لین دین کے لیے ایک منفرد ٹوکن تیار ہوتا ہے جو ڈیجیٹل لین دین میں اضافی حفاظتی تہہ فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں بڑی ادائیگیوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے مواقع
عمر ایس خان نے کہا کہ ویزا کے لیے پاکستان میں بڑی ادائیگیاں ایک اہم موقع ہیں کیونکہ زیادہ تر ڈیجیٹل لین دین چھوٹے ٹکٹس کے ہیں، جبکہ بڑی ادائیگیاں اب بھی نقد یا چیک کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ ویزا نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں سالانہ 255 ارب ڈالر کی بڑی ادائیگیوں کی صلاحیت کو شناخت کیا ہے اور شراکت داروں کے ساتھ اس پر کام کر رہا ہے۔ حکومت اور بڑے کاروباری ادارے، جیسے کہ FMCGs، ممکنہ بڑی ادائیگی کرنے والے اور وصول کنندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تقریباً 89 فیصد تمام مالیاتی لین دین ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں اور اس کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ پیمنٹ سسٹم ریویو کا ذکر کیا جس میں اندازہ لگایا گیا کہ 85 فیصد سے 90 فیصد، اور ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ، بڑی مالیت والی ادائیگیاں اب بھی نقد یا چیک کے ذریعے کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ایجنڈے، کاروباری ایجنڈے اور عمومی معاشی ضروریات پر نظر ڈالیں، بزنس ٹو بزنس ادائیگیوں کا بڑا حجم گردش میں ہے۔ اس سب میں حکومت کی توجہ ہے، ریگولیٹر کی توجہ ہے اور یہ ویزا کے لیے بھی ایک ترجیحی شعبہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درمیانے اور چھوٹے حجم کی بڑی ادائیگیاں آج ہی ڈیجیٹل کی جا سکتی ہیں، جیسے فلیٹ مینجمنٹ کی ادائیگیاں، سپلائی چین کی ادائیگیاں، سپلائی چین کریڈٹ، اور B2B قبولیت (ہول سیل ڈسٹریبیوٹرز جو چھوٹے ریٹیلرز کے ساتھ کام کرتے ہیں)۔ ویزا جلد ہی پاکستان میں B2B قبولیت کے لیے اپنا پہلا پارٹنر متعارف کرانے والا ہے، جس میں ایک بڑی FMCG کمپنی شامل ہوگی جو 300-400 ڈسٹریبیوٹرز کے ساتھ کام کرتی ہے۔
203 ارب ڈالر کے فراڈ کے اقدامات ناکام بنائے گئے
عمر ایس خان نے بتایا کہ ویزا نے 2024 میں اے آئی سے چلنے والے رسک اور فراڈ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے 203 ارب ڈالر مالیت کے مالیاتی فراڈ کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ماہ دنیا بھر میں بشمول پاکستان اپنے اے پی آئیز اور ویب ایپلیکیشنز پر ہونے والے 90 ملین حملوں کو ناکام بناتے ہیں، 340 ملین بوٹ اٹیکز کو بلاک کرتے ہیں اور 11 ملین فشنگ کوششوں کو ناکام بناتے ہیں، جس سے صارفین کی حساس معلومات محفوظ رہتی ہیں۔
عمر ایس خان نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں عالمی رہنما کمپنی نے 2024 میں 233.8 بلین لین دین کے ذریعے 13.2 ٹریلین ڈالر کی ادائیگیاں کیں یا وصول کیں، جو 2023 کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ممکنہ فراڈز کا حجم معمولی تھا، کیونکہ ویزا دنیا بھر کے 200 ممالک میں 14,500 شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا تھا اور اس کے پاس 4.7 ارب ادائیگی کے اسناد موجود تھیں۔
بومرز اور جنریشن ایکس زیادہ خطرے میں
ویزا کے اہلکار نے خبردار کیا کہ بیبی بومرز اور جنریشن ایکس (1946 تا 1980 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) ڈیجیٹل مالی فراڈ کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ٹیکنالوجی میں ماہر نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب اے آئی کے ذریعے انتہائی حقیقت کے قریب، لائیو جیسی آوازیں تیار کی جا رہی ہیں، جو معروف کمپنیوں کے اہلکاروں یا قریبی رشتہ داروں کی آواز کی نقل کرتی ہیں۔ یہ اے آئی سے تیار شدہ آوازیں اکثر فوری ضرورت کے جھوٹے احساس کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں جیسے یہ دعویٰ کرنا کہ فوری طور پر پیسے درکار ہیں۔ فراڈ کرنے والے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے قائل کرنے والی پیشکشیں بھی تیار کر رہے ہیں، جیسے جعلی انعامی اطلاعات (مثلاً: آپ نے لکی ڈرا میں 30 ہزار روپے جیت لیے ہیں یا آپ کو عمرہ کا ٹکٹ موصول ہوا ہے)، جس سے لوگ جلد بازی میں فیصلے کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نئی قسم کے ڈیپ فیک فراڈ اور آواز کی نقل کرنے والے فراڈز فشنگ کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
قبل ازیں فشنگ بنیادی طور پر خراب ای میلز پر منحصر ہوتا تھا، جنہیں پہچاننا آسان ہوتا تھا۔ آج کل جنریٹو اے آئی انتہائی ہدف شدہ اور سیاق و سباق کے مطابق فشنگ پیغامات تیار کر سکتا ہے، جو عام طور پر عام موضوعات جیسے ترسیل کی اطلاعات (مثلاً: ”آپ کا پیکج یہاں ہے“) کے گرد مرکوز ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ عام طور پر کورئیر ای میلز وصول نہیں کرتے، ان کے لیے ایسی ای میل موصول ہونا مشکوک محسوس ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں کیونکہ یہ پیغامات انتہائی قائل کرنے والے بن چکے ہیں۔


Comments
Comments are closed.