فیڈرل ٹیکس محتسب(ایف ٹی او) ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات، خودکار نظام اور ڈیجیٹائزیشن کے باوجود ٹیکس افسران کی جانب سے بدانتظامی کی شکایات میں کمی نہیں آئی۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 2024 میں ایف ٹی او ادارے کی کارکردگی، رسائی اور عوامی خدمت بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے، مگر ٹیکس حکام کی سوچ میں تبدیلی نہیں آئی اور گزشتہ چار برسوں میں ایف بی آر کے خلاف شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران ایف ٹی او آفس نے 53,887 شکایات کا فیصلہ کیا، جب کہ اس عرصے میں 54,731 شکایات موصول ہوئیں۔ 2024 میں ایف ٹی او کی مداخلت سے برآمد کنندگان کو 22.793 ارب روپے کے ریفنڈز اور ریبیٹس ادا کیے گئے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے تسلیم کیا کہ کسٹمز حکام ضبط شدہ گاڑیوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ امریکا، کینیڈا، سویڈن، یو اے ای، ہانگ کانگ اور فلپائن میں اعزازی مشیر تعینات کیے گئے جبکہ سیکرٹریٹ میں اوورسیز پاکستانی شکایات سیل قائم کیا گیا۔ ایف ٹی او نے کمپلینٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (سی ایم آئی ایس) کو جدید بنایا جس کے ذریعے مقدمات کی کاز لسٹیں ڈیجیٹل طور پر جاری کی جاتی ہیں۔ اب شکایات کنندگان آن لائن نظرثانی درخواستیں بھی جمع کرا سکتے ہیں۔
مزید برآں، اسلام آباد ہیڈکوارٹر میں ٹیکس دہندگان کے لیے ایف بی آر کے تعاون سے ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا۔ ایف ٹی او مشیروں کو فوری نوعیت کے کیسز کو گھنٹوں یا ایک دن کے اندر حل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ایک موبائل ایپ بھی لانچ کی گئی جس کے ذریعے ٹیکس دہندگان اپنی شکایات درج اور ٹریک کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے مطابق سیالکوٹ، سرگودھا، ایبٹ آباد، سکھر، حیدرآباد اور میانوالی میں آٹھ نئے علاقائی دفاتر کھولے گئے ہیں تاکہ عوام کو قریب ترین سطح پر سہولت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شکایات کو غیر رسمی انداز میں بھی حل کرنے پر زور دیا گیا ہے، جو بعض اوقات صرف ایک فون کال سے مکمل ہو جاتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.