ایرانی سرکاری بیانات کے مطابق پاکستان اور ایران نے منگل کے روز 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی“ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی اور پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
دونوں معزز شخصیات نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، اور اس سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے دونوں ممالک کو جاری تعاون کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔
جنرل موسوی نے پاکستان میں حالیہ سیلابی تباہی پر تعزیت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ایران کی مسلح افواج جس حد تک بھی مدد فراہم کر سکتی ہیں، وہ تیار ہیں۔ انہوں نے ایران کی حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران اسلام آباد کی حمایت کو بھی سراہا۔
جواباً فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس جذبے پر شکریہ ادا کیا اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے متاثرین کے لیے تعزیت پیش کی۔
انہوں نے دوطرفہ مقصد کو اس طرح بیان کیا کہ سرحد کو ”دوستی، بھائی چارے اور اقتصادی ترقی کی علامت“ میں بدلا جائے۔


Comments
Comments are closed.