بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ملک کے تمام بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پاکستان سے بالواسطہ طور پر آنے والی رقوم پر کڑی نظر رکھیں، کیوں کہ ایسی ترسیلات میں ”ہائی رسک“ موجود ہے کہ یہ رقوم اسلحے کی خریداری کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہ بات رائٹرز کو موصولہ ایک سرکاری مراسلے میں کہی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق پاکستان سے بھارت کو براہِ راست رقوم کی ترسیل پر بڑی حد تک پابندی عائد ہے اور ایسی ہر مالیاتی لین دین کے لیے مرکزی بینک کی پیشگی منظوری لازمی ہوتی ہے۔
یہ ہدایت 6 اگست کو جاری کی گئی، جس سے قبل بھارتی تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات شروع کی تھیں، جو مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ شدید فوجی کشیدگی کے بعد کی گئی تھیں۔
بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے پاکستان کو ”اسلحے کی مالی معاونت کے حوالے سے ایک بلند خطرے والا (ہائی رسک) دائرہ اختیار“ قرار دیا ہے، اور اپنے مراسلے میں بھارتی اداروں کی جانب سے کی گئی ایسی تحقیقات کا حوالہ دیا ہے، جن کا تعلق اسلحے کی مالی معاونت سے تھا، تاہم ان تحقیقات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بھارتی حکومت سے وابستہ ایک ذریعے نے، جو معاملے کی براہِ راست معلومات رکھتا ہے، انکشاف کیا کہ چند پاکستانی شہریوں نے دیگر ممالک کے ذریعے بھارت میں فنڈز منتقل کیے۔ اس ذریعے نے، جو میڈیا سے بات کرنے کا مجاز نہیں اور شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کر رہا تھا، کہا کہ بھارتی بینکنگ چینلز کو اس بات کا بلند خطرہ لاحق ہے کہ پاکستان ان کا استعمال اسلحے کی مالی معاونت کے لیے کرے۔
یاد رہے کہ بھارتی مرکزی بینک کی جانب سے منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور اسلحے کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے عمومی ہدایات پہلے سے موجود ہیں، تاہم پاکستان کا نام لے کر جاری کی گئی یہ ہدایت غیرمعمولی ہے۔
بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب پاکستان کے مرکزی بینک نے ان دعوؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جن میں پاکستان سے متعلق مالی ترسیلات کو ”ہائی رسک“ کہا گیا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی معیاری اداروں کی غیرجانبدارانہ تشخیص کی عکاسی نہیں کرتے۔
ترجمان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کی تجارتی اور ترسیلات زر کی روانی، شفافیت اور ضابطہ بندی کو یقینی بنائے گا۔
دریں اثنا پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے صدر ظفر مسعود نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق قوانین نہایت سخت اور موثر ہیں۔
بھارتی ریزرو بینک کی جانب سے بینکوں اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو جاری کردہ مراسلے میں ان مواقع کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جہاں پاکستان پر عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔
مراسلے کے مطابق جون 2025 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی ریاستی ادارہ ”نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس“ نے میزائل پروگرام کے لیے درآمد کردہ اشیاء کو خفیہ رکھ کر پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے رائٹرز کی درخواست پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔


Comments
Comments are closed.