پاکستان میں کپاس کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران حالیہ دنوں میں اسپاٹ ریٹ میں 200 روپے فی من کی کمی ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کی پیداوار کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس سے کاشتکاروں اور تاجروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) اور پنجاب کروپ رپورٹنگ سروس نے پیداوار کے مختلف تخمینے پیش کیے ہیں جن میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
ہیڈ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی، سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان، ساجد محمود نے کہا کہ وزارت فوڈ سیکیورٹی کی ناقص بیج کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو کپاس کے شعبے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
کاشتکاروں اور صنعت کے نمائندگان نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کپاس کے مستقبل کے لیے امید کی کرن ثابت ہوسکتا ہے۔
کاشتکاروں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج کھاد کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہے۔ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں، لیکن کاشتکار فوری قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ پیداوار کے اخراجات کم ہو سکیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے نچلے علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے اور 17 اگست سے ایک نیا سلسلہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں کپاس کی فصل پر مثبت یا منفی اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے اس پر نزدیک سے نگرانی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے واضح کیا ہے کہ ناقص بیج کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کاشتکاروں کے مفادات کو تجارتی مفادات پر ترجیح دی جائے گی۔
اجلاس میں بیج کمپنیوں کی سخت نگرانی، نئی کمپنیوں کے رجسٹریشن معیار میں شفافیت اور کپاس کے لیے ٹروتھ اینڈ لیبلنگ سسٹم متعارف کرانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی، جس سے معیار اور تصدیق شدہ بیج کی فراہمی یقینی ہوگی۔
ساجد محمود نے کہا کہ بیج کمپنیوں کی نگرانی اور ٹروتھ اینڈ لیبلنگ سسٹم کا نفاذ کاشتکاروں کے لیے فائدہ مند ہے اور کپاس کی پیداوار میں بہتری کی بنیاد فراہم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کے بغیر کپاس کی پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں، اور ٹیکسٹائل صنعت کو اپنے واجب الادا سیس کی وصولی اور تحقیقاتی اداروں کی مضبوطی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
امریکہ کی یو ایس ڈی اے رپورٹ کے مطابق 2024-25 میں پاکستان کی کپاس کی کھپت 1.55 کروڑ بائل رہی جبکہ 2025-26 کے لیے تخمینہ 1.52 کروڑ بائل لگایا گیا ہے، جس پر صنعت میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں کپاس کی پیداوار کے ہدف 55 لاکھ بائل کے لیے فیلڈ ٹیموں کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سندھ اور پنجاب میں کپاس کے نرخ 16,000 سے 16,400 روپے فی من کے درمیان اور پھٹی کے نرخ 6,500 سے 7,800 روپے فی 40 کلو کے درمیان رہے۔ مارکیٹ میں بارش کی پیش گوئی کے باعث خریدار اور جنرز محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔


Comments
Comments are closed.