خیبرپختونخوا اور شمالی پاکستان میں موسلادھار بارشوں اور گلیشیائی طغیانی کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 307 سے تجاوز کر گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق جاں بحق افراد میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 23 ہے۔
سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں ہوئی جہاں 184 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ شانگلہ میں 35، مانسہرہ میں 23، باجوڑ میں 21، سوات میں 20، بٹگرام میں 15 اور لوئر دیر میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ کل 74 مکانات تباہ ہوئے جن میں 11 مکمل اور 63 جزوی طور پر منہدم ہوئے۔
بونیر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق گوکند، گڈیزئی اور پیر بابا میں سیلاب سے 213 افراد جاں بحق ہوئے۔ لاشوں کو ٹی ایچ کیو پیر بابا اور ڈی ایچ کیو ڈگر منتقل کیا گیا اور ضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
باجوڑ کے سلارزئی اور جبرائی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 21 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کئی گاؤں زیرآب آ گئے۔ بٹگرام اور مانسہرہ کی سرحدی بستی نیل بند میں بادل پھٹنے سے 18 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔
آزاد کشمیر کے نیلم ویلی میں چھ پل بہہ گئے اور 11 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل ہیں۔ گلگت بلتستان میں غذر اور دیامر میں 10 افراد جاں بحق ہوئے، کئی سڑکیں اور بجلی کا نظام متاثر ہوا۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ فوج، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.