باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے آذربائیجان کی کمپنی سوکار (SOCAR)) سے چینی کی درآمد پر اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے، تاہم یہ شرط عائد کی ہے کہ اس معاملے میں وفاقی حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ درآمد پر سبسڈی کا خرچ متعلقہ صوبے برداشت کریں اور اس کے لیے پہلے سے تحریری عہد نامہ حاصل کیا جائے۔ ماضی کی درآمدات میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے صوبوں پر واجب الادا بڑے واجبات کے پیشِ نظر ادائیگی پیشگی کی جائے تاکہ مارک اپ اور واجبات میں اضافہ نہ ہو۔
وزارتِ خزانہ نے مزید ہدایت کی کہ چینی کی درآمد بتدریج کی جائے تاکہ مقامی قیمتوں میں استحکام برقرار رہے اور ضرورت کے مطابق سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔ درآمد شدہ چینی کی مقدار، قیمت اور تقسیم پر نظر رکھنے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے۔
وزارت خزانہ نے اس مقصد کے لیے رواں سہ ماہی کے لیے ٹی سی پی کے کیش کریڈٹ لمٹ کو بڑھا کر 461,477.222 ملین روپے کر دیا ہے، جبکہ 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کے لیے مزید 115 ارب روپے درکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ڈپٹی وزیرِ اعظم سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کی سفارش پر سوکار سے چینی درآمد کی منظوری دی۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ کے مطابق کرشنگ سیزن 25-2024 کے اختتام پر ملک میں موجود چینی کا ذخیرہ، جس میں گزشتہ سال کا 5 لاکھ میٹرک ٹن بفر اسٹاک شامل ہے، اگلے کرشنگ سیزن تک ضرورت پوری کرنے کے لیے بمشکل کافی تھا۔ اس کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں نے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔
حکومت نے فوری طور پر سپلائی چین میں رکاوٹیں دور کرنے کے اقدامات کیے اور 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا۔ یہ کام ٹی سی پی کو سونپا گیا، تاہم جولائی میں جاری پہلے ٹینڈر پر کوئی موزوں بولی موصول نہ ہوئی۔ اس کے بعد نظرِ ثانی شدہ شرائط کے ساتھ دوسرا ٹینڈر جاری کیا گیا، مگر زیادہ تر بولی دہندگان معیار یا قیمت کی شرط پوری نہ کر سکے۔
اسی دوران سوکار نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی کی فراہمی 570 ڈالر فی ٹن کراچی اور 575 ڈالر فی ٹن گوادر پر پیش کی۔ مذاکرات کے بعد یہ قیمت 559 ڈالر فی ٹن تک کم کر دی گئی اور آرڈر دو لاکھ میٹرک ٹن کرنے کی صورت میں مزید کمی 558 ڈالر فی ٹن طے ہوئی۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ پیپرا رولز کے تحت متبادل خریداری طریقہ اختیار کرتے ہوئے ٹی سی پی سوکار سے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی خریدے، پہلی کھیپ 30 ستمبر 2025 تک اور دوسری 15 اکتوبر 2025 تک پہنچائی جائے، ٹیکس چھوٹ کی تاریخ بڑھا کر 30 نومبر کی جائے اور گوادر پر لازمی اتارنے کی شرط سے استثنا دیا جائے۔ کابینہ نے یہ سفارشات منظوری کے بعد عملدرآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.