ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت منگل کو ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ملک کی بندرگاہوں کی عملی کارکردگی (آپریشنل ایفیشنسی) کا جائزہ لیا گیا۔
ڈپٹی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں بندرگاہوں پر رش کم کرنے، تجارتی سہولتوں کو موثر بنانے اور درآمدات و برآمدات سمیت مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے لاجسٹکس نظام کی بہتری جیسے اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں بندرگاہوں کی کارکردگی بڑھانے، جہازوں کی آمد و واپسی کے وقت( ٹرن اراؤنڈ ٹائم ) کم کرنے اور مال برداری (کارگو ہینڈلنگ) کے عمل کو ہموار بنانے سے متعلق تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بندرگاہوں کی جدید کاری اور عملدرآمدی نظام کو موثر بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو علاقائی و عالمی تجارت میں مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے اپنے پورٹ انفرااسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا ہوگا۔
یہ بات انہوں نے ملکی بندرگاہوں کی کارکردگی اورعملی کارکردگی میں بہتری ( آپریشنل ایفیشنسی ) کے جائزے سے متعلق منگل کو منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری پاکستان ریلویز سید مظہر علی شاہ، نیشنل کوآرڈی نیٹر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل، ڈی جی نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن میجر جنرل فرخ شہزاد، ایڈیشنل سیکریٹری میری ٹائم افیئرز اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ حکومت نے 19 جولائی کو کراچی پورٹ پر چارجز میں 50 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد تجارتی لاجسٹکس کے کاربن اثرات میں کمی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سمندری شعبے کو ڈی کاربنائز کرنے اور بندرگاہی آپریشنز میں توانائی کی بچت کے لیے کی جانے والی وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ پورٹ ہینڈلنگ، ویسل اور اسٹوریج چارجز میں 50 فیصد کمی کے ساتھ ساتھ سالانہ 5 فیصد اضافے کا سابقہ فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ ان اصلاحات سے ڈرائی بلک ایکسپورٹرز کو فائدہ ہوگا اور بندرگاہوں پر رش میں کمی، تیز تر نقل و حرکت، اور کم اخراج جیسے اہداف حاصل ہوں گے۔


Comments
Comments are closed.