پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کی جانب بڑا قدم، اسٹیٹ بینک جاپانی کمپنی کے ساتھ ملکر پائلٹ پروجیکٹ کیلئے تیار
نکی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جاپانی بلاک چین ٹیکنالوجی کمپنی سورامیتسو کے ساتھ مل کر اس سال ملک میں سینٹرل بینک کی ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) کے پائلٹ پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی روپے کی ڈیجیٹل پائلٹ سورامیتسو کے سینٹرل بینک کی ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم پر چلائی جائے گی، جس کے لیے جاپان کی وزارت معیشت، تجارت اور صنعت کے گلوبل ساؤتھ فیوچر-اورینٹڈ کو-کری ایشن پروجیکٹ سے فنڈنگ مہیا کی جائے گی۔
ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پاکستان کے ماہر ماساتو ٹوریہ نے نکی ایشیا کو بتایا کہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر لین دین نقدی کی بنیاد پر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اجرت کی ادائیگی بھی، اور بینک اکاؤنٹ رکھنے والوں کی شرح کم ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینٹرل بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کا مقصد نقدی کے انتظام اور تقسیم پر آنے والے زیادہ اخراجات کو کم کرنا ہے۔
سورامیتسو، جس نے کمبوڈیا کی بایکونگ ڈیجیٹل کرنسی تیار کی ہے، کہتی ہے کہ پاکستان کا یہ منصوبہ 250 ملین افراد اور 400 ارب ڈالر معیشت کے لحاظ سے اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
ٹوکیو میں مقیم کمپنی انٹرنیٹ کے بغیر اسمارٹ فون پر لین دین کی سہولت دینے کے لیے آف لائن ڈیجیٹل کرنسی کی صلاحیتیں بھی تیار کر رہی ہے، جسے دیگر ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ ماہ، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے بتایا تھا کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پروجیکٹ کے لیے تیاریاں کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثوں کے لیے قوانین کو حتمی شکل دے رہا ہے۔
سنگاپور میں روئٹرز نیکسٹ ایشیا سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل کرنسی پر اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے اور جلد پائلٹ پروجیکٹ شروع ہونے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک نیا قانون لائسنسنگ اور ضابطہ کاری کے لیے بنیاد فراہم کرے گا اور اسٹیٹ بینک پہلے ہی کچھ ٹیک پارٹنرز سے رابطے میں ہے۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے اپنے مالی نظام کو جدید بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں، جن میں حکومت کی حمایت یافتہ پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کا قیام بھی شامل ہے، جو مارچ میں ورچوئل اثاثوں کو اپنانے کے لیے قائم کی گئی۔
پاکستان کرپٹو کونسل بٹ کوائن مائننگ کے لیے اضافی توانائی کے استعمال پر غور کر رہا ہے اور اس نے بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو اسٹریٹجک مشیر مقرر کیا ہے، اور ریاستی بٹ کوائن ریزرو قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
اس کونسل نے امریکی کرپٹو کمپنیوں سے بھی بات چیت کی ہے، جن میں ٹرمپ سے منسلک ورلڈ لبرٹی فنانشل شامل ہیں۔
مئی میں، اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ ورچوئل اثاثے غیر قانونی نہیں ہیں، لیکن مالیاتی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ رسمی لائسنسنگ فریم ورک بننے تک ان میں ملوث نہ ہوں۔


Comments
Comments are closed.