BR100 Decreased By (-0.42%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.84 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 27.07 Increased By ▲ 0.09 (0.33%)
BOP 33.76 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.03 Increased By ▲ 0.15 (1.52%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 204.00 Decreased By ▼ -0.93 (-0.45%)
FABL 99.85 Decreased By ▼ -0.25 (-0.25%)
FCCL 52.90 Decreased By ▼ -0.19 (-0.36%)
FFL 16.51 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 25.24 Increased By ▲ 0.40 (1.61%)
HBL 299.79 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
HUBC 217.42 Increased By ▲ 0.34 (0.16%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.19 Decreased By ▼ -0.03 (-0.42%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.34 (1.16%)
MLCF 90.97 Decreased By ▼ -1.19 (-1.29%)
OGDC 317.39 Increased By ▲ 1.10 (0.35%)
PAEL 41.75 Decreased By ▼ -0.29 (-0.69%)
PIBTL 16.52 Increased By ▲ 0.11 (0.67%)
PIOC 298.20 Decreased By ▼ -2.04 (-0.68%)
PPL 217.78 Increased By ▲ 0.94 (0.43%)
PRL 51.85 Increased By ▲ 0.99 (1.95%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.51 Decreased By ▼ -0.14 (-1.62%)
TPLP 13.37 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
TRG 59.05 Decreased By ▼ -0.21 (-0.35%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.15 (-1.46%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

کاروباری برادری کے تحفظات کے پیش نظر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ سیلز ٹیکس فراڈ کے صرف اُن مقدمات میں جج سے گرفتاری کے وارنٹ حاصل کیے جائیں گے جن میں جعلی یا فلائنگ انوائسز شامل ہوں۔

پیر کو جاری کردہ سیلز ٹیکس وضاحتی سرکلر میں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں گرفتاری سے متعلق شقوں کی وضاحت کی۔ کاروباری حلقوں کا ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ گرفتاری کے اختیارات کو صرف اُن معاملات تک محدود کیا جائے جن میں بدنیتی یا دھوکہ دہی نمایاں ہو، خصوصاً جعلی یا فائننگ انوائسز۔

ایف بی آر نے کاروباری برادری کو واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 37A کی ذیلی دفعہ (9) کے تحت جج سے گرفتاری کا وارنٹ بنیادی طور پر انہی سیلز ٹیکس فراڈ کے مقدمات میں حاصل کیا جائے گا جو سنگین یا اہم نوعیت کے ہوں، جن میں جعلی اور فلائنگ انوائسز شامل ہیں۔ اس ذیلی دفعہ کے تحت، وہی پیشگی شرائط لاگو ہوں گی جو ذیلی دفعہ (8) کے تحت گرفتاری کی صورت میں درکار ہوتی ہیں۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ شق 37A کی ذیلی دفعہ (9) کے تحت گرفتاری کے وارنٹ صرف اُن سیلز ٹیکس فراڈ کیسز میں حاصل کیے جائیں گے جو سنگین نوعیت کے ہوں، خاص طور پر وہ جن میں جعلی یا فلائنگ انوائسز کا استعمال کیا گیا ہو۔ اس ضمن میں وہی شرائط لاگو ہوں گی جو ذیلی دفعہ (8) کے تحت گرفتاری کے لیے درکار ہیں، جن میں شامل ہیں:

ملزم کی جانب سے دستاویزات میں ردوبدل کا خدشہ

ملزم کے فرار ہونے کا امکان

ملزم کا تین نوٹسز کے باوجود تفتیش میں عدم تعاون

ایف بی آر نے مزید کہا کہ شق 37A کی ذیلی دفعات (8) اور (9) کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک الگ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر (ایس ٹی جی او) جاری کیا جائے گا جس میں تفصیلی طریقہ کار، پیشگی شرائط اور دیگر پابندیوں کا احاطہ کیا جائے گا۔

مزید برآں، ایف بی آر نے فوجداری اور سول ذمہ داریوں کو الگ کرتے ہوئے عدم تعمیل اور دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں میں واضح فرق کر دیا ہے۔ اس مقصد کے تحت شق 11E کی ذیلی دفعہ (1) میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے بعد اب ملی بھگت یا دانستہ طور پر ٹیکس ادا نہ کرنے کے معاملات اس شق کے دائرے سے خارج کر دیے گئے ہیں، کیونکہ ایسے کیسز میں پہلے ہی شق 37A کے تحت فوجداری کارروائی کی قانونی گنجائش موجود ہے۔

اسی تسلسل میں شق 11E کی دفعات اُن معاملات پر لاگو نہیں ہوں گی جن میں شق 37A کے تحت کارروائی شروع ہوچکی ہو۔ ان دونوں شقوں کے درمیان فرق واضح ہے: شق 11E کا اطلاق سادہ عدم تعمیل کے معاملات پر ہوتا ہے، جبکہ شق 37A اُن سرگرمیوں سے متعلق ہے جو بدنیتی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہوں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.