انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں 0.02 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 6 پیسے کے اضافے کے ساتھ 282.66 روپے پر بند ہوا۔
گزشتہ ہفتے کے دوران بھی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں مزید مستحکم ہوا، جب اس کی قدر میں 73 پیسے یا 0.26 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مقامی کرنسی 282.72 پر بند ہوئی، جو ایک ہفتہ قبل 283.45 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر، امریکی ڈالر پیر کو معمولی حد تک بحال ہوا، حالانکہ جمعے کو جاری ہونے والی مایوس کن لیبر رپورٹ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک اعلیٰ لیبر افسر کو برطرف کیے جانے سے سرمایہ کار حیران رہ گئے، اور انہوں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جلد شرح سود میں کمی کی توقعات بڑھا دیں۔
جمعے کو جاری کردہ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ جولائی میں امریکی روزگار میں اضافہ توقعات سے کم رہا، جبکہ گزشتہ دو ماہ کے نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار کو 2 لاکھ 58 ہزار کی بڑی کمی کے ساتھ نیچے کی جانب ریویژن کیا گیا، جو کہ لیبر مارکیٹ کی صورتحال میں نمایاں بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید برآں اسی دن ٹرمپ نے بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی کمشنر ایرکا میک اینٹافر کو ملازمت سے فارغ کر دیا، اور الزام لگایا کہ انہوں نے روزگار کے اعدادوشمار کو جعلی بنایا تھا۔
فیڈ کی گورنر ایڈریانا کوگلر کی غیر متوقع استعفیٰ نے بھی ٹرمپ کو مرکزی بینک پر اپنی مداخلت جلد کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ ٹرمپ طویل عرصے سے فیڈ کے ساتھ شرح سود میں بروقت کمی نہ کرنے پر اختلاف رکھتے تھے۔
ان واقعات نے امریکی ڈالر کو سخت دباؤ میں ڈال دیا، جس کی قدر جمعے کو جاپانی ین کے مقابلے میں 2 فیصد سے زائد اور یورو کے مقابلے میں تقریباً 1.5 فیصد گر گئی۔
پیر کو ڈالر نے ین کے مقابلے میں کچھ بحالی دکھائی اور آخری اطلاعات کے مطابق 0.14 فیصد اضافے کے ساتھ 147.60 ین پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
یورو 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 1.1560 ڈالر پر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.3263 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
ڈالر انڈیکس، جو مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کی عکاسی کرتا ہے، 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 98.86 پر پہنچ گیا، حالانکہ جمعے کو اس میں 1 فیصد سے زائد کمی ہوئی تھی۔
تیل کی قیمتوں، جو زرمبادلہ کی شرح کے لیے ایک اہم اشاریہ تصور کیا جاتا ہے، میں پیر کے روز بھی کمی کا رجحان برقرار رہا ۔ اوپیک پلس کی جانب سے ستمبر میں پیداوار میں بڑے اضافے کے فیصلے کے بعد، قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا، جب کہ تیل استعمال کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی معیشت، امریکہ، میں سست روی کے خدشات بھی اس کمی کا سبب بنے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 40 سینٹ یا 0.57 فیصد کی کمی کے ساتھ 69.27 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 37 سینٹ یا 0.55 فیصد کمی کے بعد 66.96 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ جمعہ کو دونوں بینچ مارک کنٹریکٹس تقریباً 2 ڈالر فی بیرل کی کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔


Comments
Comments are closed.