پاکستان کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025 میں کارکردگی ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ملک میں صنفی عدم مساوات کس قدر گہری ہے۔ 0.567 (یعنی 56.7 فیصد) اسکور کے ساتھ، پاکستان 148 ممالک میں سب سے آخری نمبر پر ہے، اور 2024 میں 145ویں پوزیشن سے مزید نیچے آ گیا ہے۔
سب سے کمزور پہلو معاشی شرکت کا ہے: خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت صرف 30.4 فیصد برابری تک محدود ہے، اور اعلیٰ عہدوں پر ان کی موجودگی محض 6.1 فیصد ہے۔ تعلیم کا شعبہ کچھ بہتر ہے، لیکن شرحِ خواندگی میں برابری صرف 70.2 فیصد تک محدود ہے، اور پرائمری و سیکنڈری تعلیم میں اندراج کے فرق بدستور موجود ہیں۔
صحت اور بقاء کے اشاریے نسبتاً مضبوط ہیں، کیونکہ زندگی کی متوقع مدت اور پیدائش کے وقت صنفی تناسب میں تقریباً برابری نظر آتی ہے، لیکن سیاسی اختیار و نمائندگی کی حالت افسوسناک ہے: کابینہ میں کوئی خاتون وزیر نہیں، اور پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی صرف 20.5 فیصد ہے۔
یہ بڑھتا ہوا صنفی فرق پاکستان کی معیشت پر پہلے ہی اثر ڈال رہا ہے۔ خواتین لیبر فورس کا صرف ایک چوتھائی حصہ بنتی ہیں، اور جو خواتین برسرِ روزگار بھی ہیں، وہ اکثر کم اجرت یا غیر رسمی شعبوں میں کام کرتی ہیں، جس سے قومی پیداوار کم اور گھریلو آمدنی محدود رہتی ہے۔ جن شعبوں کو مہارت یافتہ افراد کی ضرورت ہے — جیسے ٹیکنالوجی، صحت اور مالیات — وہ اُس وقت ترقی نہیں کر سکتے جب آدھی آبادی کی نمائندگی نہ ہو، اور تعلیم میں مسلسل صنفی خلا، مہارت رکھنے والی افرادی قوت کی تیاری کو متاثر کرتا ہے۔
یہ تمام عوامل ملا کر روزگار کی تخلیق کو سست کرتے ہیں، سرمایہ کاری کی رفتار کو کم کرتے ہیں، اور پاکستان کو کم ترقی اور عدم مساوات کے ایک چکر میں مقید رکھتے ہیں۔
علاقائی سطح پر پاکستان جنوبی ایشیا کے اوسط اسکور 0.646 سے بھی کافی پیچھے ہے، یعنی تقریباً آٹھ پوائنٹس کم، اور آمدنی کی سطح کے ہم پلہ ممالک سے بھی دس پوائنٹس کم ہے۔ بھارت 129ویں نمبر پر ہے اور اسکور 0.643 ہے، جو زیادہ تر اشاریوں میں پاکستان سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، جبکہ بنگلہ دیش 24ویں نمبر پر ہے، جس کا اسکور 0.775 ہے۔ اس نے تعلیمی برابری تقریباً مکمل حاصل کر لی ہے اور خواتین کی سیاسی قیادت کے حوالے سے عالمی سطح پر ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔
یہ سبق بالکل واضح ہے: صنفی برابری کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی بنیاد ہے۔ بنگلہ دیش اور روانڈا جیسے ممالک نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیاسی اختیار وسیع تر تبدیلی کے لیے محرک کا کردار ادا کرتا ہے — جو رول ماڈل تیار کرتا ہے، جامع پالیسی سازی کی راہ ہموار کرتا ہے، اور سماجی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔
فلپائن کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح تعلیم میں تقریباً مکمل برابری اعلیٰ مہارت کے حامل روزگار کے لیے خواتین کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ ویتنام کی مثال یہ دکھاتی ہے کہ لیبر ریفارمز، بچوں کی نگہداشت کی سہولیات، اور مساوی اجرت کی پالیسیوں سے خواتین کی معاشی شرکت میں اضافہ اور آمدنی کے فرق میں کمی ممکن ہے۔ ان ممالک نے محض قوانین منظور نہیں کیے — انہوں نے سماجی رویے بدلے، خواتین کے لیے محفوظ نقل و حرکت اور مواقع پیدا کیے، اور قیادت کے راستے ہموار کیے۔
پاکستان کے لیے مستقبل کا راستہ واضح مگر مشکل ہے۔ ملک کو خواتین کی خواندگی اور سیکنڈری تعلیم میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی، لیبر قوانین میں اصلاحات کے ذریعے محفوظ اور لچکدار کام کی جگہیں پیدا کرنا ہوں گی، مساوی اجرت کی پالیسیوں کو نافذ کرنا ہوگا، اور حکومت و صنعت میں فیصلہ سازی کے عہدوں پر خواتین کی شمولیت کو فعال طور پر فروغ دینا ہوگا۔
ثقافتی اور ادارہ جاتی تبدیلیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں: خواتین کے کردار سے متعلق رویے تبدیل کرنے سے لے کر نقل و حمل میں تحفظ اور بچوں کی دیکھ بھال کے ڈھانچے کی فراہمی تک۔ ان اقدامات کے بغیر، پاکستان کا عالمی صنفی درجہ بندی میں سب سے نیچے رہنے کا خطرہ برقرار رہے گا، جہاں صنفی اخراج کی معاشی اور سماجی لاگت اصلاحات کی مشکلات سے کہیں زیادہ ہوگی۔
لیکن جیسا کہ دیگر ترقی پذیر ممالک نے ثابت کیا ہے، سیاسی عزم اور سماجی حمایت سے چلنے والی فیصلہ کن اصلاحات، بتدریج تبدیلیوں کے مقابلے میں صنفی خلیج کو کہیں زیادہ تیزی سے ختم کر سکتی ہیں۔


Comments
Comments are closed.