وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے اور ریاستی عملداری کے مکمل نفاذ کے حکومتی عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شدت پسندی اور پرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت انسدادِ دہشت گردی اور ریاستی عملداری سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جسے “ ریاستی استحکم منصوبے (Harden the State) کے اقدام کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اہم آپریشنز کے ذریعے فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔ حالیہ معرکوں میں دنیا نے پاکستان کی کامیابیوں کو دیکھا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی محض زمینی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں قانون سازی، عوامی شمولیت اور انتہا پسند نظریات کے تدارک جیسے اہم پہلو شامل ہیں، جو اسے ایک ہمہ جہت اور موثر ماڈل بناتے ہیں۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت ”ہارن دی اسٹیٹ“ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین مربوط رابطے اور سیکورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے تعاون کو سراہا اور کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے، قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہیں۔ جن افسران اور سپاہیوں نے مادرِ وطن کے لیے جانیں قربان کیں، وہ قوم کا فخر ہیں۔
انہوں نے پنجاب میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی کارکردگی، وزارتِ داخلہ اور انٹیلیجنس بیورو کے کردار کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ان گروہوں کے خلاف موثر اور قابلِ عمل حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے جو ”فتنۂ ہندوستان“ اور ”فتنۂ خوارج“ جیسے خطرات کی صورت میں قومی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں، یہ اصطلاحات بالترتیب بھارت کے حمایت یافتہ گروہوں اور انتہا پسند عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کے باہمی اقدامات سے اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ اسمگلنگ اقدامات نے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے حکومتی نظم و نسق میں اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس اصلاحات جیسے اقدامات سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو معیشت کی بحالی کی علامات قرار دیا ہے۔
غیر قانونی افغان باشندوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی وطن واپسی بین الاقوامی قوانین کے تحت جاری ہے۔
اجلاس میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم ملک، وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، رانا ثناء اللہ، مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


Comments
Comments are closed.