BR100 Decreased By (-0.36%)
BR30 Decreased By (-0.66%)
KSE100 Decreased By (-0.22%)
KSE30 Decreased By (-0.17%)
BAFL 56.41 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 29.90 Decreased By ▼ -0.22 (-0.73%)
CNERGY 12.63 Decreased By ▼ -0.35 (-2.7%)
DFML 17.71 Increased By ▲ 0.22 (1.26%)
DGKC 187.40 Increased By ▲ 0.18 (0.1%)
FABL 93.01 Decreased By ▼ -0.70 (-0.75%)
FCCL 51.45 Decreased By ▼ -0.20 (-0.39%)
FFL 14.44 Decreased By ▼ -0.05 (-0.35%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.01 Decreased By ▼ -1.77 (-0.58%)
HUBC 199.25 Increased By ▲ 0.29 (0.15%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.05 (-0.51%)
KEL 5.98 Decreased By ▼ -0.08 (-1.32%)
LOTCHEM 26.01 Decreased By ▼ -0.16 (-0.61%)
MLCF 90.70 Decreased By ▼ -0.53 (-0.58%)
OGDC 315.00 Increased By ▲ 1.61 (0.51%)
PAEL 34.83 Decreased By ▼ -0.41 (-1.16%)
PIBTL 14.29 Decreased By ▼ -0.42 (-2.86%)
PIOC 237.05 Decreased By ▼ -2.57 (-1.07%)
PPL 219.49 Decreased By ▼ -1.87 (-0.84%)
PRL 88.70 Decreased By ▼ -2.52 (-2.76%)
SNGP 90.51 Decreased By ▼ -0.36 (-0.4%)
SSGC 23.24 Decreased By ▼ -0.06 (-0.26%)
TELE 7.43 Decreased By ▼ -0.18 (-2.37%)
TPLP 12.18 Decreased By ▼ -0.38 (-3.03%)
TRG 55.18 Decreased By ▼ -0.61 (-1.09%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں عالمی اور مقامی برانڈز نے مجموعی طور پر 3 کروڑ سے زائد موبائل فونز فروخت کیے، جو مالی سال 2023-24 میں 3.4 کروڑ یونٹس کی فروخت کے مقابلے میں 12 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔

اسی عرصے میں مقامی طور پر اسمبل کیے گئے موبائل فونز کی فروخت 28.28 ملین یونٹس تک گر گئی جبکہ پچھلے مالی سال میں یہ تعداد 32.55 ملین تھی۔ اس کے علاوہ مالی سال 25 میں 1.73 ملین موبائل فونز کی درآمد ہوئی، جو گزشتہ سال کی 1.89 ملین امپورٹ کے مقابلے میں کم ہے۔

موبائل فونز کی فروخت میں یہ کمی گزشتہ سال کی بلند سطح کی بنیاد (ہائی بیس ایفیکٹ) کی وجہ سے ہے، جب ہینڈ سیٹس پر ٹیکس میں تبدیلی کے باعث غیر معمولی طلب دیکھی گئی تھی۔ مقامی مارکیٹ میں صارفین کی جانب سے موبائل فون تبدیل کرنے کے دورانیے میں اضافہ بھی ایک اہم وجہ ہے، جو بنیادی طور پر نئے ماڈلز کی کمی اور غیر دلچسپ لانچز کی وجہ سے ہوا ہے۔

وفاقی وزارت صنعت و تجارت کے مطابق ملکی موبائل فون کی تقریباً 94 فیصد طلب مالی سال 2024-25 کے دوران مقامی طور پر اسمبل اور تیار کی گئی مصنوعات سے پوری ہوئی۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے آئی ٹی اور متعلقہ شعبہ کے کنوینر خوشنود آفتاب نے کہا ہے کہ مقامی اسمبلرز کا موبائل فون کی ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہنر مند روزگار کی فراہمی اور ملک میں غیر ملکی زر مبادلہ کی بچت کے حوالے سے نمایاں کردار ہے۔

انہوں نے حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ موبائل فونز، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز اور دیگر آلات کی مقامی اسمبلی کو مزید بڑھانے کے لیے کام کریں تاکہ ملک میں تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

خوشنود آفتاب نے کہا ہے کہ بغیر تکنیکی ترقی کے کوئی ملک عالمی معیشتوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، لہٰذا ٹیکنالوجی اور جدید اختراعات کا حصول اور خود کفالت انتہائی ضروری ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق 2025 کے پہلے چھ ماہ میں سب سے زیادہ اسمبل کیے جانے والے 10 مقامی برانڈز میں وی گو ٹیل 16 لاکھ 30 ہزار (1.63 ملین) یونٹس، انفنکس 15 لاکھ (1.50 ملین) یونٹس، آئی ٹیل 12 لاکھ 30 ہزار(1.23 ملین) یونٹس، ویوو 12 لاکھ (1.20 ملین) یونٹس، شیاؤ می 8 لاکھ 30 ہزار (0.83 ملین) یونٹس، سام سنگ 7 لاکھ 60 ہزار (0.76 ملین) یونٹس، ٹیکنو 6 لاکھ 70 ہزار (0.67 ملین) یونٹس، جی فائیو 6 لاکھ 40 ہزار (0.64 ملین) یونٹس، نوکیا 5 لاکھ 80 ہزار(0.58 ملین) یونٹس اور کیو موبائل 5 لاکھ 60 ہزار (0.56 ملین) یونٹس شامل ہیں۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر مالیات ابراہیم امین نے کہا کہ پاکستان کے معاشرے میں موبائل فونز کا وسیع استعمال (penetration) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں افراد نے ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کو قبول کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مالیاتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق شعور اجاگر کرنا چاہیے، تاکہ تعلیم، صحت، حکمرانی، ڈیجیٹائزیشن اور کیش لیس معیشت سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات لائی جا سکیں۔

Comments

Comments are closed.