مقبوضہ کشمیر میں حملہ آوروں سے متعلق بھارت کا بیان سراسر جھوٹا اور من گھڑت ہے، پاکستان
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ بھارت کے وزیر داخلہ کے ان دعوؤں میں جو انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپریل کے ہندو سیاحوں پر حملے میں ملوث تین پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کیے ہیں،“ انتہائی جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سے بھرپور ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ اس ہفتے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک جنگل میں فائرنگ کے دوران مارے گئے تین مسلح افراد وہی تھے جو 22 اپریل کے حملے میں ملوث تھے، اور نئی دہلی کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔
پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، جس میں 26 افراد مارے گئے تھے، یہ بھارت میں 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد شہریوں پر سب سے سنگین حملہ تھا، اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارت خارجہ پاکستان نے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ کا بیان من گھڑت الزامات سے لبریز ہے، جس سے اس کی سچائی پر گہرے سوالات اٹھتے ہیں۔
بھارت کا الزام تھا کہ حملہ آور پاکستانی شہری تھے جنہیں اسلام آباد کی حمایت حاصل تھی۔ ان حملہ آوروں نے مقبوضہ جموں و کشمیرکی حسین وادی پہلگام میں سیاحوں کے مشہور مقام پر فائرنگ کی اور بعد میں قریبی جنگلوں میں فرار ہو گئے۔
اس حملے کے بعد نئی دہلی نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ”دہشت گردی کے ڈھانچے“ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مئی میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان چار روزہ شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد وہ جنگ بندی پر متفق ہوئے۔


Comments
Comments are closed.