گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خواتین اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے نئے ارکان سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب اتوار کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ارکان کی حاضری نہ ہونے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے آئین کے آرٹیکل 255(2) کے تحت گورنر کو مخصوص نشستوں کے ارکان سے حلف لینے کے لیے نامزد کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن میں گورنر کو ہدایت دی گئی کہ حلف برداری آئینی طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہو اور ریکارڈ مناسب انداز میں رکھا جائے۔
عدالت نے صوبائی اسمبلی کے سیکرٹری کو بھی ہدایت دی کہ وہ نو منتخب ارکان کو رول آف ممبرز پر دستخط کے لیے سہولت فراہم کریں۔ نوٹیفکیشن کی نقول اسپیکر، سیکرٹری اسمبلی، الیکشن کمیشن اور صوبائی چیف سیکرٹری کو بھی ارسال کی گئیں۔ پیر کی صبح 9 بجے گورنر ہاؤس میں حلف برداری کی ایک اور تقریب طے ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی بنچز نے جان بوجھ کر کورم کا مسئلہ پیدا کیا تاکہ مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان سے حلف نہ لیا جا سکے۔ یہ خصوصی اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی درخواست پر بلایا گیا تھا مگر پی ٹی آئی کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث حکومتی ارکان نے عدم شرکت کی حکمت عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں کورم پورا نہ ہو سکا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اجلاس میں حکومتی رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی جس پر گھنٹیاں بجانے کے باوجود ارکان واپس نہ آئے اور اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور ارکان اب بھی حلف کے منتظر ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.