لائیو اسٹاک و فشریز کی مشاورتی کمیٹیوں میں شمولیت کیلئے کراچی چیمبر نمائندے نامزد کرے، صوبائی وزیر کی اپیل
وزیر برائے لائیو اسٹاک، فشریز سندھ محمد علی ملکانی نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پر زور دیاہے کہ وہ لائیواسٹاک اور فشریز ڈپارٹمنٹ کی مشاورتی کمیٹیوں میں نمائندے نامزد کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کے سی سی آئی پالیسی سازی میں فعال کردار اور مستقبل کی منصوبہ بندی و ترقی میں مفید مشورے دے سکے گا۔
کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر علی ملکانی لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا اور سرمایہ کاری پر تیز تر منافع حاصل کرنے کا بہترین موقع قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک واحد شعبہ ہے جو صرف 6 ماہ میں سرمایہ کاری پر منافع کی ضمانت دیتاہے جو کسی اور صنعت یا کاروبار میں ممکن نہیں۔ انہوں نے کے سی سی آئی ممبران کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کاجاۂ لینے کی دعوت دی اور اسکی معاشی و دیہی ترقی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔
محمد علی ملکانی نے ایکوا کلچر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر جب سمندر میں مچھلیوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے کاروباری افراد پہلے ہی مچھلی اور جھینگوں کی فارمنگ کر رہے ہیں ہمیں ان کوششوں کو وسعت دینے اور پائیدار ایکوا کلچر کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پولٹری،فشریز اور جھینگا فارمنگ میں بے پناہ مواقع کی طرف توجہ دلائی اور ہمسایہ ملک بھارت کی مثال دی جہاں ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہےاسکے برعکس پاکستان کی سمندری اور ایکوا کلچر برآمدات سالانہ 500 ملین ڈالر سے بھی کم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ذیلی شعبوں میں بہت زیادہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے اور مناسب سرمایہ کاری سے ہم اپنی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
علی ملکانی نے سرمایہ کاروں سے قلیل مدتی منصوبوں جیسے قربانی کے جانوروں کی تجارت کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری خاص طور پر گوشت کی پیداواراور جھینگوں کی پرورش جیسےطویل مدتی منصوبوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔ سندھ حکومت ان شعبوں میں سرمایہ کاروں کو تکنیکی معاونت اور ہر ممکن سہولت دینے کے لیے تیار ہے، ان کوششوں سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی جہاں فارمنگ کے مراکز قائم ہوں گے۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے سندھ میں فش فارمنگ کو ترجیح دینے اور فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور فشریز برآمدات کو بڑھانے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فش فارمنگ سے کم محنت کے باوجود زیادہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ پانی کے مناسب وسائل، حکومتی معاونت اور مالی سہولیات دستیاب ہوں انہوں نے سندھ میں کئی موزوں مقامات کی نشاندہی کی جن میں کیٹی بندر اور دیگر زرخیز ساحلی علاقے شامل ہیں جو مچھلی اور جھینگے کی فارمنگ کے لیے مثالی ہیں۔


Comments
Comments are closed.