اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت، تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم، تحقیقات کا دائرہ وسیع
- ماڈل کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ایک فلیٹ سے برآمد ہونے کے حوالے سے پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ منظور علی نے چھ رکنی اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی قائم مقام ایس پی کلفٹن عمران علی جگرانی کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موت کی نوعیت — قدرتی، حادثاتی، خودکشی یا قتل — کا تعین کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے۔
7 جولائی 2025 کو جاری پولیس آرڈر کے مطابق، اس تحقیقاتی کمیٹی میں ایس ڈی پی او ڈیفنس اورنگزیب خٹک، اے ایس پی ندا جنید، اور ایس ایچ او گزری محمد فاروق شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سب انسپکٹر محمد امجد اور کانسٹیبل محمد عدیل (آئی ٹی برانچ) بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
یہ ٹیم شواہد اکٹھے کرے گی اور ہر روز ایس ایس پی ساؤتھ کو تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کرے گی تاکہ حمیرا اصغر کی موت کے اصل اسباب سامنے لائے جا سکیں۔

32 سالہ حمیرا اصغر گزشتہ سات برس سے اکیلی اسی اپارٹمنٹ میں مقیم تھیں۔ منگل کے روز جب کرایہ کی عدم ادائیگی پر عدالتی بیلف فلیٹ خالی کرانے آیا تو دروازہ توڑ کر پولیس اندر داخل ہوئی اور انتہائی سوختہ حال لاش برآمد کی گئی۔
ابتدائی طور پر پولیس نے لاش چھ ماہ پرانی قرار دی، تاہم ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد نے انکشاف کیا کہ لاش کم از کم نو ماہ پرانی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے، لیکن لاش کی بگڑی ہوئی حالت کے سبب موت کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ ڈی این اے اور کیمیکل سیمپلز لیب کو بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ آنے پر مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے عرب نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ فلیٹ سے ملنے والے شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ حمیرا اصغر اکتوبر 2024 کے آس پاس وفات پا چکی تھیں۔ ان کے مطابق، فلیٹ میں موجود خوراک اور مشروبات کی میعاد 2024 تک کی تھی اور موبائل فون پر آخری پیغامات بھی اکتوبر 2024 کے تھے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ موبائل میں موجود دونوں سم کارڈز ستمبر 2024 کے بعد غیر فعال ہو چکے تھے اور اسی مہینے کے-الیکٹرک نے بجلی بھی منقطع کر دی تھی۔
مزید برآں، فلیٹ کے ساتھ والا اپارٹمنٹ خالی تھا، جس کے باعث لمبے عرصے تک کسی کو کچھ معلوم نہ ہو سکا۔
اداکارہ کی تدفین لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں جمعہ کے روز کی گئی، جہاں ان کے والد، چچا، بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔


Comments
Comments are closed.