پاکستان اور روس نے کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے پروٹوکول پر دستخط کردیے جس سے دونوں ممالک کے دیرینہ صنعتی تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔
یہ معاہدہ ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے میں پاکستان کے سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم اور روسی کمپنی انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی کے جنرل ڈائریکٹر وادم ویلیچکو کے درمیان طے پایا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور روس میں پاکستان کے سفیر محمد خالد جمالی بھی موجود تھے۔
اس منصوبے کا مقصد اسٹیل کی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنا اور اسے توسیع دینا ہے جو پاک روس دو طرفہ تعاون میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ روس کے تعاون سے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی ہمارے باہمی تاریخی تعلقات اور مضبوط صنعتی مستقبل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
گزشتہ ماہ بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا تھا کہ تکنیکی ماہرین پاکستان اسٹیل ملز کی موجودہ مشینری کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر 50 فیصد مشینری قابلِ استعمال ہوئی تو حکومت روس کے تعاون سے اسٹیل مل کی بحالی ضرور کرے گی۔
انہوں نے اُس وقت بتایا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے پاس 18,660 ایکڑ اراضی موجود ہے جس میں سے 710 ایکڑ پر نئے اسٹیل پلانٹ کے قیام پر غور کیا جارہا ہے۔
حکام کے مطابق اگرچہ پاکستان لوہے کے ذخائر کے حوالے سے مالا مال ہے اور یہاں تقریباً 1.887 ارب ٹن کے تخمینے کے مطابق آئرن اوور کے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ملک ہر سال تقریباً 2.7 ارب ڈالر مالیت کا اسٹیل درآمد کرتا ہے۔


Comments
Comments are closed.