BR100 Increased By (1.53%)
BR30 Increased By (1.52%)
KSE100 Increased By (1.35%)
KSE30 Increased By (1.44%)
BAFL 57.65 Increased By ▲ 0.45 (0.79%)
BIPL 27.35 Increased By ▲ 0.46 (1.71%)
BOP 34.52 Increased By ▲ 0.83 (2.46%)
CNERGY 10.90 Increased By ▲ 0.29 (2.73%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.36 (1.99%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.50 Increased By ▲ 2.55 (2.58%)
FCCL 54.30 Increased By ▲ 0.56 (1.04%)
FFL 16.82 Increased By ▲ 0.36 (2.19%)
GGL 24.10 Increased By ▲ 0.28 (1.18%)
HBL 305.40 Increased By ▲ 2.98 (0.99%)
HUBC 222.00 Increased By ▲ 3.06 (1.4%)
HUMNL 10.65 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 30.02 Increased By ▲ 0.37 (1.25%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 1.09 (1.13%)
OGDC 321.25 Increased By ▲ 3.03 (0.95%)
PAEL 42.54 Increased By ▲ 0.77 (1.84%)
PIBTL 17.16 Increased By ▲ 0.35 (2.08%)
PIOC 302.99 Increased By ▲ 6.37 (2.15%)
PPL 223.78 Increased By ▲ 3.61 (1.64%)
PRL 52.84 Increased By ▲ 3.79 (7.73%)
SNGP 108.16 Increased By ▲ 2.03 (1.91%)
SSGC 29.65 Increased By ▲ 0.51 (1.75%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.14 (1.59%)
TPLP 12.86 Increased By ▲ 0.35 (2.8%)
TRG 60.60 Increased By ▲ 0.38 (0.63%)
UNITY 10.17 Increased By ▲ 0.15 (1.5%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

لکی موٹر کارپوریشن (ایم ایم سی ) نے یکم جولائی 2025 سے پاکستان میں اپنی کئی ماڈلز کی قیمتوں میں 7 لاکھ روپے تک کا اضافہ کردیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ حالات اور وفاقی بجٹ میں شامل کیے گئے اقدامات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے ڈیلرز کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ صارفین کو بہتر معیار کی مصنوعات مناسب قیمتوں پر فراہم کی جائیں تاہم حالیہ حالات نے قیمتوں پر گہرا اثر ڈالا ہے جن میں وفاقی بجٹ میں نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی کا نفاذ، پاکستانی روپے کی مسلسل قدر میں کمی اور بین الاقوامی فریٹ لاگت میں اضافہ شامل ہیں۔

کمپنی نے مزید کہا کہ ہم نے بڑھتے اخراجات کو کم کرنے اور خود برداشت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم موجودہ حالات کے باعث یکم جولائی سے قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہوگیا تھا۔

فنانس ایکٹ 2025 کے تحت متعارف کروایا گیا نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی جو تمام انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) والی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر نافذ کیا گیا ہے یکم جولائی 2025 سے مؤثر ہوگیا ہے،اس نئے ٹیکس کے نفاذ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اور فوری اضافہ کیا گیا ہے ۔

نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی کا اطلاق تمام اقسام کی گاڑیوں پر ہوتا ہے — جس میں عام موٹرسائیکلوں سے لے کر پرتعیش ایس یو ویز (ایس یو ویز) تک شامل ہیں۔

تاہم، اس پالیسی کے تحت کچھ مخصوص گاڑیوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے — جن میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں (نیو انرجی وہیکلز)، صرف برآمدی مقاصد کے لیے تیار کردہ گاڑیاں، سفارتی مشن کی استعمال شدہ گاڑیاں، اور بین الاقوامی اداروں کی وہ گاڑیاں شامل ہیں جو سفارتی استحقاق کی حامل ہیں۔

لکی موٹرز نے اپنی ہیچ بیک گاڑی پکانٹو اے ٹی کی قیمت میں 1 لاکھ 50 ہزار روپے کا اضافہ کردیا ہے۔اس اضافے کے بعد آٹومیٹک ویریئنٹ کی نئی قیمت 40 لاکھ 90 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

دوسری جانب کِیا اسٹونک ای ایکس پلس کی قیمت میں نمایاں طور پر 4 لاکھ 99 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 59 لاکھ 90 ہزار روپے ہو گئی ہے، اسی طرح اسٹونک ای ایکس ویریئنٹ کی قیمت میں 95 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ 48 لاکھ 60 ہزار روپے میں دستیاب ہوگی۔

کمپنی نے اسپورٹیج اور سورینٹو کے مختلف ویریئنٹس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کردیا ہے۔

اسپورٹیج الفا کی نئی قیمت 88 لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جب کہ اسپورٹیج ایف ڈبلیو ڈی اب 1 کروڑ 4 لاکھ 90 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ اسپورٹیج ایچ ای وی ویریئنٹ کی قیمت میں 6 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 1 کروڑ 15 لاکھ 90 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

کيا سورينٹو 3.5L V6 کی نئی قیمت 1 کروڑ 38 لاکھ 90 ہزار روپے کی گئی ہے جبکہ سورینٹو 3.5L V6-EMI کا ایکس-فیکٹری ریٹ 1 کروڑ 43 لاکھ 90 ہزار روپے ہوگیا ہے، دونوں ویریئنٹس کی قیمتوں میں 4 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سورینٹو ایچ ای وی ایف ڈبلیو ڈی اور اس کا ای ایم آئی ویریئنٹ بالترتیب 1 کروڑ 52 لاکھ 90 ہزار روپے اور 1 کروڑ 57 لاکھ 90 ہزار روپے میں دستیاب ہوں گے۔ دونوں ماڈلز کی قیمتوں میں 6 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سورینٹو ایچ ای وی اے ڈبلیو ڈی اور اس کا ای ایم آئی ویریئنٹ میں سب زیادہ 7 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اب یہ ماڈلز بالترتیب 1 کروڑ 66 لاکھ 90 ہزار روپے اور 1 کروڑ 71 لاکھ 90 ہزار روپے میں دستیاب ہوں گے۔

کِیا کارنیول، جو کہ ایک پریمیم ملٹی پرپز وہیکل (ایم پی وی) ہے، اب 1 کروڑ 82 لاکھ روپے میں دستیاب ہے جس کی قیمت میں 7 لاکھ روپے کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کیا کی الیکٹرک گاڑیوں — ای وی 5 ایئر، ای وی 5 ارتھ، اور وی وی 9 — کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

تمام صارفین کے وہ آرڈرز جن کا انوائس یکم جولائی 2025 یا اس کے بعد جاری کیا جائے گا، نئی ایکس-فیکٹری قیمتوں کے مطابق وصول کیے جائیں گے۔

لکی موٹر کارپوریشن (ایل ایم سی) نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کوئی نئے یا اضافی ڈیوٹی، ٹیکس یا چارجز عائد کیے جاتے ہیں یا کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں میں کوئی رد و بدل ہوتا ہے تو ڈلیوری کے وقت لاگو ہونے والے یہ تمام اخراجات صارف کو برداشت کرنا ہوں گے۔

Comments

Comments are closed.