BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.76 (1.34%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.95 Increased By ▲ 0.27 (0.8%)
CNERGY 10.63 Increased By ▲ 0.82 (8.36%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 209.50 Increased By ▲ 1.63 (0.78%)
FABL 99.50 Increased By ▲ 0.60 (0.61%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.23 (0.43%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.18 (-1.08%)
GGL 23.84 Increased By ▲ 0.27 (1.15%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -2.23 (-0.73%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 1.14 (0.52%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.14 (-1.31%)
KEL 7.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.68%)
LOTCHEM 29.87 Increased By ▲ 0.76 (2.61%)
MLCF 96.30 Increased By ▲ 0.80 (0.84%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.01 Increased By ▲ 17.00 (6.07%)
PPL 220.44 Increased By ▲ 0.70 (0.32%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.26 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.13 (1.48%)
TPLP 12.56 Increased By ▲ 0.46 (3.8%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.23 (0.38%)
UNITY 10.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.3%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان اور بھارت نے منگل کے روز ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ یہ تبادلہ 2008 میں طے پانے والے قونصلر رسائی کے معاہدے کی دفعات کے تحت عمل میں آیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق یہ تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں بیک وقت سفارتی ذرائع کے ذریعے کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستیں ایک دوسرے کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کو 246 قیدیوں کی فہرست حوالے کی، جن میں 53 عام شہری اور 193 ماہی گیر شامل ہیں، جو بھارتی یا ممکنہ طور پر بھارتی سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو 463 قیدیوں کی فہرست فراہم کی ہے، جن میں 382 عام شہری اور 81 ماہی گیر شامل ہیں، جو پاکستانی یا ممکنہ طور پر پاکستانی شہری قرار دیے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ان تمام پاکستانی قیدیوں کی فوری رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اپنی سزائیں مکمل کر لی ہیں اور جن کی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اسلام آباد نے بھارت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان قیدیوں کو، جنہیں پاکستانی یا ممکنہ طور پر پاکستانی تصور کیا جا رہا ہے، اور خاص طور پر جو جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہیں، خصوصی قونصلر رسائی فراہم کرے تاکہ ان کی شہریت کی تصدیق کا عمل تیز کیا جا سکے۔

پاکستان نے مزید زور دیا ہے کہ بھارت ان تمام پاکستانی قیدیوں کو قونصلر رسائی دے جہاں یہ رسائی تاحال زیر التوا ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تحویل میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کی سلامتی، سکیورٹی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں۔

دفتر خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان انسانی بنیادوں پر تمام معاملات، خصوصاً قیدیوں سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کی جلد واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Comments

Comments are closed.